روانڈا نسل کشی، مشتبہ شخص کانگو سے گرفتار

،تصویر کا ذریعہMICT
امریکہ کا کہنا ہے کہ افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے مشتبہ شخص کو کانگو سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
لاڈسلا انتگنزوا جو کہ سابق میئر رہ چکے ہیں پر سنہ 1994 میں ہزاروں افراد کے قتل عام اور بڑی تعداد میں ریپ کروانے کا الزام ہے۔
یہ اقوام متحدہ کو مطلوب نو مشتبہ افراد میں شامل ہیں۔
امریکہ کی جانب سے لاڈسلا کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کو 50 لاکھ ڈالرز کi انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
محکمہ خارجہ نے ان پر روانڈا کے جنوبی ضلعے بوتارے میں نسل کشی کے واقعے میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے۔
امریکی محکمے کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ان پر تتسی قبیلے کو خطے سے نکالنے کے لیے تقاریر کرنے اور تتسی برادری کے پناہ گزینوں کو قتل کرنے والوں کو مراعات دینے کا بھی الزام ہے۔‘
ان کی گرفتاری سے متعلق دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے میکانزم فار انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونلز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ 53 سالہ انلاڈسلا انتگنزوا پر جنھیں بدھ کو کانگو سے گرفتار کیا گیا روانڈا میں مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ نسل کشی کے اس واقعے میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد کا جن میں زیادہ تر تعداد تتسی برادری کی تھی سو دن جاری رہنے والی پرتشدد کارروائی میں قتل عام کیا گیا تھا۔
انتگنزوااس سے قبل شمالی تنزانیا کے قصبے اروشا میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونل فار روانڈا کو مقدمے میں مطلوب تھے۔







