کانگو:اسلحے کے ذخیرے میں دھماکے، 200 ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افریقی ملک کانگو کے دارالحکومت برازاویل میں اسلحے کے ایک ذخیرے میں آگ لگنے کے بعد ہونے والے زوردار دھماکوں کے باعث پندرہ سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں ہلاکتوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔
حکام دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلحے کے ذخیرے میں آگ لگنے کا واقعہ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے پندرہ سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ افراد گولہ بارود کے پھٹنے اور عمارتوں کے ملبے تلے دبنے کی وجہ سے زخمی ہوئے۔
کئی گھنٹے تک ہونے والے دھماکے اس قدر زور دار تھے کے ان کی آواز میلوں دور سرحد کے پار جمہوریہ کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں بھی سنی گئی۔
طبی عملے نے دو سو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد بتانا ممکن نہیں کیونکہ اب بھی لوگ گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل برازاویل میں ایک یورپی سفیر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’ہم نے فوجی ہسپتالوں میں کم سے کم ڈیڑھ سو لاشوں کو گنا ہے اور پندرہ سو کے قریب افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر کے دفتر کے ایک اہلکار نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو کے قریب بتائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کانگو کے حکومتی ریڈیو پر وزیرِ دفاع چارلس زاچری بوواؤ کا کہنا تھا کہ دارلحکومت میں دھماکے اسلحے کے ایک ڈھیر میں آگ لگنے کی وجہ سے ہوئے۔ انہوں نے شہریوں سے اطمینان رکھنے کو کہا۔
ان کا کہنا تھا ’آپ نے جو دھماکے سنے ہیں ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگا ہے یا جنگ چھڑ گئی ہے۔ نہ ہی کوئی بغاوت شروع ہو گئی ہے بلکہ یہ ایک اسلحے کے ڈھیر میں آگ لگنے کے باعث دھماکے ہونے کا واقعہ ہے۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجیوں اور پولیس نے جائے حادثہ کی ناکہ بندی کی دی ہے۔
اگرچہ ماضی میں کانگو کو مارشل لاء اور خانہ جنگی کا سامنا رہا ہے لیکن انیس سو نوے کی دہائی کے بعد سے کانگو میں زیادہ تر امن ہی رہا ہے۔







