مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعات کی فروخت منسوخ

،تصویر کا ذریعہReuters
مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی ریٹیل چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر عارضی پابندی کے مطالبے کے بعد ان کی کمپنی کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ریٹیل چین ’لائف سٹائل‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ ہوم کی مصنوعات کو اپنے متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور قطر کے سٹورز سے ہٹا دیا ہے۔
<link type="page"><caption> ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151207_donald_trump_muslims_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ٹرمپ کا بیان خطرناک اور شرمناک ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151209_donald_trump_reaction_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
ریٹیل چین کے مالک گروپ لینڈ مارک کا کہنا ہے کہ ’لائف سٹائل اپنے تمام گاہکوں کی اقدار اور جذبات کی عزت کرتا ہے۔‘
تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے ان کے درمیان معاہدے کی مالیت کتنی تھی۔
لینڈمارک گروپ کے چیف ایگزیکٹیو سچن منڈھوا نے کہا ہے کہ ’صدارتی امیدوار کی جانب سے امریکی میڈیا میں پیش کیے گیے حالیہ بیانات کی روشنی میں ہم نے ٹرمپ ہوم کی تمام مصنوعات کی فروخت منسوخ کر دی ہے۔‘
خیال رہے کہ لینڈ مارک گروپ کا شمار خطے کے بڑے ریٹیل گروپوں میں ہوتا ہے اور ان کی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور پاکستان میں 190 سے زائد دکانیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ ہوم آرائشی مصنوعات تیار کرتا ہے اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی کاروباروں میں سے ایک ہے جس کا لائسنس ان کے نام پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ارب پتی تاجر اور ٹی وی سٹار ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ مسلمان سیاحوں، طالب علموں اور نقل مکانی کرنے والوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیں گے۔
ان کا یہ بیان گذشتہ دنوں ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آیا تھا، اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس حملے میں ایک مسلمان جوڑا ملوث تھا جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے وہ شدت پسندی کی جانب مائل ہوگیا تھا۔
ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر اس کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
برطانیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ داخلے پر پابندی کے لیے شروع گئی ایک پٹیشن پر دس ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اب ارکان پارلیمان کو اس مسئلے کو موضوع بحث بنانے کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔







