ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان میرین کا جواب

ایک مسلمان سابق بحری اہلکار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا بحری شناختی کارڈ لگا کر ایک جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹویٹ کے بعد آگے کیا ہوا۔
طیب رشیدنے اپنے میرین شناختی کارڈ کی تصویر امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک انٹرویو کے بعد لگائی تھی۔
مسٹر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر خصوصی سکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات لاگو کرنے کے حق میں ہیں۔
اس انٹرویو کے بعد طیب رشیدنے اپنے میرین شناختی کارڈ کی تصویر ٹوئٹر پر لگاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا: ’میں ایک امریکی مسلمان ہوں اور میں پہلے سے ہی ایک خاص شناختی کارڈ لیے پھرتا ہوں، آپ کا شناختی کارڈ کہاں ہے؟‘
اس ٹویٹ کے بعد دیگر لوگوں نے بھی ٹوئٹر پر اپنے شناختی کارڈ ایک ہیش ٹیگ MuslimID# کے ساتھ لگانا شروع کر دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ہیش ٹیگ کو گذشتہ تین دن سے 10 ہزار سے بھی زیادہ مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTayyib Rashid
مسٹر رشید نے اپنی ٹویٹ کے رد عمل کے بارے میں کہا: ’میں سمجھا تھا کہ اُسے تھوڑے بہت لائکس تو مل ہی جائیں گے لیکن مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ٹویٹ وائرل ہو چکی ہے۔‘
یہ تنازع تب شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویب سائٹ ’یاہو نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مسلمانوں کے متعلق یہ بات کہی۔
انٹرویو کے دوران جب ایک صحافی نے انھیں تجاویز پیش کیں کہ مسلمانوں کو ڈیٹا بیس میں اپنی رجسٹری کروانی چاہیے یا مسلمان شناختی کارڈ رکھنے چاہیں تو مسٹر ٹرمپ نے ان کی تجاویز کو مسترد نہیں کیا۔
مسٹر ٹرمپ نے رد عمل میں کہا: ’ہمیں کافی چیزیوں کو بہت دھیان سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں مساجد کو دھیان سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں بہت احتیاط سے دھیان دینا ہوگا۔‘
مسٹر رشید کہتے ہیں کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں کے بارے میں کچھ دوستوں سے سنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter Shiz006
انھوں نہ کہا: ’میں نے جواب میں فوری طور پر ایک ٹویٹ بھیج دی۔ اس کے بعد چھڑنے والی گفتگو میں پولیس اہلکار، وکلا اور ڈاکٹروں نے بھی شمولیت اختیار کر لی تھی۔‘







