معذور صحافی کا مذاق اڑانے پر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

،تصویر کا ذریعہAPTN
امریکی ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ پر اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک معذور صحافی کا مذاق اڑانے پر تنقید کی گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جلسے میں صحافی سرگی کوالسکی کی نقل اتاری تھی جو کہ پیدائشی طور پر جوڑوں کی بیماری کا شکار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سرگی کوالسکی کی طرف سے سنہ 2001 میں لکھے گئے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے ان دعووں کا دفاع کیا جن میں کہا گیا تھا کہ 9/11 حملوں کے بعد امریکی ریاست نیو جرسی میں مقیم ’ہزاروں‘ مسلمانوں نے جشن منایا تھا۔
نیو یارک ٹائمز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حرکات کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔
منگل کی رات کو ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں ایک جلسے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2001 میں اخبار واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے شائع کیے گئے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر کوالسکی کو ’ایک اچھا صحافی‘ کہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہtwitter
اس کے بعد انھوں نے کہا: ’بیچارے کوالسکی، آپ کو ان کی حرکات دیکھنی ہوں گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کہنے کے بعد ٹرمپ نے کوالسکی کی بظاہر نقل اتارتے ہوئے اپنے بازوؤں کو ایک عجیب طریقے سے ہلانا شروع کر دیا۔
انھوں نے کہا: ’آہ، مجھے نہیں پتہ کہ میں نے کیا کہا تھا۔ آہ، مجھے نہیں یاد ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں نہیں یاد کہ ’شاید‘ میں نے وہ کہا تھا۔‘
کوالسکی ’آرتھروگرائپوسس‘ بیماری کا شکار ہیں جو جوڑوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہے اور وہ اُن کے دائیں ہاتھ اور دائیں بازوں میں نمایاں ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک ترجمان نے اخباری ویب سائٹ ’پولٹیکو‘ کو بتایا: ’ہمیں اس بات پر بہت غصہ ہے کہ انھوں نے ہمارے ایک نامہ نگار کی شخصیت کا مذاق اڑایا ہے۔‘
کوالسکی کی طرف سے سنہ 2001 میں لکھے گئے مضمون کے مطابق جرسی شہر کے حکام نے ’کچھ لوگوں کو اپنی حراست میں لیا تھا جنھیں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد مبینہ طور پر جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے دعوے کہ امریکی مسلمان 11 ستمبر کے حملوں کے بعد جشن منا رہے تھے، مسٹر کوالسکی نے کہا ہے کہ انھوں نے ’کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ وہاں پر ہزاروں یا سینکڑوں لوگ جشن منانے رہے تھے۔‘
جرسی شہر کے میئر نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے ’سراسر غلط‘ ہیں۔







