روس کا دولت اسلامیہ پر سمندر سے میزائل حملہ

روس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار بحیرۂ روم میں اپنی آبدوز سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنروس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار بحیرۂ روم میں اپنی آبدوز سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے

روس نے بحیرۂ روم میں اپنی ایک آبدوز سے پہلی بار شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

وزیر دفاع سرگے شوئگو نے کہا ہے کہ رقہ میں دولت اسلامیہ کے دو دہشت گرد ٹھکانوں کو ’روستوو آن ڈون‘ نامی آبدوز سے ’کلبیر‘ کروز میزائل سے نشانہ بنایا گيا ہے۔

خیال رہے کہ روس نے شام کے صدر بشار الاسد کی درخواست پر دولت اسلامیہ کے خلاف ستمبر کے مہینے میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

امریکی اتحاد کا کہنا ہے کہ روس عام طور پر دولتِ اسلامیہ کو نہیں بلکہ شامی حکومت مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ کریملن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام دہشتگردوں‘ کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن شام کے سرگرم کارکنوں کے مطابق اس کے بعض فضائی حملوں کی زد میں عام شہری اور مغرب کے حمایت یافتہ باغی بھی آئے ہیں۔

سرگے شوئگو نے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹی وی پر ایک ملاقات کے دوران کہا: ’ہم نے بحیرۂ روم میں روستوو آن ڈون آبدوز سے کلبیر کروز میزائل کا استعمال کیا۔‘

دولت اسلامیہ نے شام کے شہر رقہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیا ہے
،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ نے شام کے شہر رقہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیا ہے

انھوں نے مزید کہا: ’ہم مکمل اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں اسلحے کے ذخیروں اور بارودی سرنگ بنانے والی ایک فیکٹری کو شدید نقصان پہنچا ہے اور فطری طور پر ان کے تیل کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘

خیال رہے کہ شمالی شام کا شہر رقہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے قبضے میں ہے اور وہ اسے اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ لیکن ان میں سے کسی بھی ملک نے اس بابت عوامی طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ اس نے اکتوبر کے مہینے کے دوران بحر قزوین (کیسپیئن سی) میں اپنے جنگی بیڑے سے 26 کروز میزائل داغے تھے۔ خیال رہے کہ شام سے یہ بیڑہ 1500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔