اشاروں پر ہم جنس پرست شکلوں کا تنازع

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریا کے شہر لِنز میں پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیے اشاروں کی بتیوں پر لگی ہم جنس پرستوں سے نسبت رکھنے والی شکلیں ہٹا دی گئی ہیں۔
اشاروں کی بتیوں پر ہم جنس پرستوں کی صورتیں اس سال کے شروع میں رواداری کو فروغ دینے کے لیے لگائی گئی تھیں۔
سرخ اور سبز اشاروں پر ہم جنس پرست جوڑوں کے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے نظر آنے والی یہ شکلیں ویانا میں یورو وژن گانوں کے مقابلے کے ساتھ متعارف کرائی گئی تھیں۔ وہاں یہ اتنی مقبول ہوئیں کہ انھیں دیگر شہروں سِلزبرگ اور لِنز میں بھی استعمال کیا گیا۔
کوریر ویب سائٹ کے مطابق گو یہ شکلیں دارالحکومت کی سڑکوں کے اشاروں پر مستقل طور پر پائی جاتی ہیں، تاہم لِنز کی سڑکوں کے اشاروں سے انھیں ہٹا دیا گیا ہے۔
دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی کے کونسلر مارکس ہین جو ٹریفک کے امور کے ذمہ دار ہیں کہتے ہیں کہ ’ٹریفک کے اشارے، ٹریفک کا نظام چلانے کے لیے ہیں۔ان اشاروں کو زندگی کیسی گزاری جائے اس نصیحت کے لیے غلط طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
مسٹر ہین نے اشاروں پر ہم جنس پرستوں کی شکلوں کے اقدام کی شروع سے ہی مخالفت کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستوں کے حقوق پہلے ہی آگے کی سطح پر ہیں اور انھیں بتیوں پر لگانا ’مکمل طور پر غیر ضروری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
گرین پارٹی کے مقامی قانون ساز سیورین مائر اس اقدام کو ’شرمناک‘ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اس طرح کی علامتیں پرامن بقائے باہمی اور کھلے ماحول کے فروغ کے لیے استعمال ہوتی ہیں لیکن لِنز میں کونسل نے الٹی گنگا بہا دی ہے۔‘
آسٹریا کے کچھ باشندوں نے آن لائن تبصرہ کرتے ہوئے اس فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس پر کچھ خرچ نہیں آتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ ایک شخص نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی شکلوں کو اشاروں میں استعمال کرنا ’بے وقوفی‘ ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام سے لِنز شہر کا ذہن میں آنے والا تصور خراب ہو گیا ہے۔
ایک صاحب نے یہ بھی کہا کہ سڑکوں پر لگے اشارے نجی طور پر دیے جانے والے عطیات کے مرہونِ منت ہیں۔ یہ کونسل کے پیسے سے نہیں لگائے گئے۔ وہ پوچھتے ہیں ’کیا عطیہ دہندگان کو ان کے پیسے واپس دیے جائیں گے؟‘







