ہم جنس پرست پادری کی ویٹیکن پر سخت تنقید

،تصویر کا ذریعہAFP
ویٹیکن کے ایک اعلیٰ پادری جنھیں جنس پرست ہونے کی وجہ سے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا نے رومن کیتھولک چرچ کی سخت تنقید کی ہے۔
کرزیسٹاف کرامزا نے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسز کو ایک خط میں لکھا کہ چرچ نے دنیا کے لاکھوں ہم جنس پرست کیتھولک عیسائیوں کی زندگی ’جہنم‘ بنا دی ہے۔
انھوں نےکہا کہ ویٹیکن کی جانب سے ہم جنس پرست پادریوں پر پابندی عائد کرنا ’منافقت‘ ہے کیونکہ ان کے بقول پادریوں کا طبقہ ’ہم جنس پرستوں سے بھرا ہوا ہے۔‘
تین اکتوبر تک ویٹیکن میں رومن کیتھولک نظریے کو برقرار رکھنے والے شعبے ’کانگرگیشن فار دا ڈاکٹرین آف دا فیتھ‘ میں مونسنیور کرامز ایک اعیٰ عہدہ رکھتے تھے۔
لیکن ویٹیکن نے انھیں فوری طور پر اپنے عہدے سے تب ہٹا دیا جب انھوں نے اٹلی کے شہر روم کے ایک ریسٹوران میں منعقد کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ ایک ہم جنس پرست ہیں۔

،تصویر کا ذریعہb
اس وقت ویٹیکن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پادری کا اعلان ’غیر ذمہ دارانہ تھا کیونکہ اس کا مقصد ویٹیکن کو میڈیا کی جانب سے دباؤ میں لانا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولینڈ سے تعلق رکھنے والے پادری کرامزا نے بی بی سی کو پوپ کو لکھے گئے خط کی ایک کاپی دی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ چرچ ہم جنس پرست کیتھولک عیسائیوں کو ’بہت تکلیف‘ دے رہا ہے۔
43 سالہ پادری کا کہنا ہے کہ رومن کیتھولک پادریوں میں ’ہم جنس پرست بھرے ہونے‘ کے باجود وہ ’ ہم جنس پرستوں سے نفرت‘ کرتے ہیں۔ انھوں نے ’تمام ہم جنس پرست پادریوں‘ سے درخواست کی کہ وہ ’اس بے حس، غیر منصفانہ اور ظالمانہ چرچ کو چھوڑ دیں۔‘
انھوں نے پھر خط میں پوپ فرانسس کا شکریہ ادا کیا جن کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اپنے پیش روؤں کے برخلاف وہ ہم جنس پرستی کے بارے میں نسبتاً برداشت کا رویہ رکھتے ہیں۔
پوپ فرانسس نے ابھی اپنا ردِ عمل نہیں دیا ہے۔
ویٹیکن کی تعلیمات کے مطابق رومن کیتھولک پادریوں کے لیے کنوارا رہنا ضروری ہے۔







