’ہم جنس شادی کی سند پر میرا نام نہ آئے‘

کم ڈیوس کا کہنا ہے کہ ان کا عقیدہ انھیں اس قسم کے فرائض سرانجام دینے کی اجازت نہیں دیتا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم ڈیوس کا کہنا ہے کہ ان کا عقیدہ انھیں اس قسم کے فرائض سرانجام دینے کی اجازت نہیں دیتا

امریکی ریاست کینٹکی میں اس عیسائی اہلکار نے جسے ہم جنس شادی کی سند دینے سے انکار پر قید کر دیا گیا تھا کہا ہے کہ وہ اس عمل کو اب نہیں روکیں گی لیکن کاغذات پر ان کا نام نہیں دکھائی دیا جانا چاہیے۔

لیکن کم ڈیوس نے پیر کو عدالت میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے دستخط کے بغیر شادی کی سند کس طرح قانونی قرار دی جا سکتی ہے۔

کم ڈیوس جو ایک منتخب عہدیدار ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کا عقیدہ انھیں اس قسم کے فرائض سرانجام دینے کی اجازت نہیں دیتا اور انھیں لائسنس پر دستخط کرنے سے مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ دو ماہ قبل جب ملک بھر میں ایک ہی جنس کے دو لوگوں کے درمیان شادی کو جائز قرار دیا گیا تب سے کم ڈیوس نے کسی کو کوئی سند جاری نہیں کی ہے۔

جون میں امریکہ بھر میں ایک ہی جنس کے دو لوگوں کے درمیان شادی کو جائز قرار دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجون میں امریکہ بھر میں ایک ہی جنس کے دو لوگوں کے درمیان شادی کو جائز قرار دیا گیا تھا

کم نے کہا ’میں اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتی اور نہ ہی کسی کی توجہ کا مرکز۔ میں کوئی ہیرو نہیں ہوں۔ میں صرف ایک انسان ہوں اور خدا کے فضل و کرم سے بدل گئی ہوں۔ میں صرف اپنے اہل خانہ کے ساتھ سکون سے رہنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے ضمیر کی خلاف ورزی کیے بغیر اپنے ہمسایوں کی خدمت کر سکوں۔‘

کم ڈیوس کے دعوؤں کے باوجود گورنر سمیت کینٹکی کے کئی حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والی شادی کی سند قانون کے دائرے میں آتی ہے۔

گذشتہ جون سے شادی کی سند دینے سے انکار کرنے پر کم ڈیوس کو امریکی سپریم کورٹ اور دو وفاقی عدالتوں نے قید کی سزا سنائی تھی۔

کینٹکی میں رووان کاؤنٹی کی کلرک کم ڈیوس ایک ڈیموکریٹ ہیں جنھیں تین ستمبر کو توہین عدالت کے جرم میں قید کی سزا ملی تھی۔

وفاقی جج ڈیوڈ بننگ نے آٹھ ستمبر کو کم ڈیوس کو جیل سے اس شرط پر رہا کیا تھا کہ وہ اپنے ماتحتوں کے کام میں مداخلت نہیں کریں گی۔