امریکہ: ہم جنس شادی کی سند جاری نہ کرنے پر سرکاری اہلکار جیل میں

کم ڈیوس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے عقائد کے ساتھ متصادم ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکم ڈیوس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے عقائد کے ساتھ متصادم ہے

امریکہ میں ایک عدالت نے ریاست کینٹکی کی ایک سرکاری اہلکار کو ہم جنس جوڑوں کو شادی کے سند جاری نہ کرنے پر توہین عدالت کی مرتکب قرار دیتے ہوئے جیل بھیجنے کا حکم سنایا ہے۔

کلرک کم ڈیوس کا کہنا کہ ان کے عیسائی عقیدے کے باعث انھیں اسناد پر دستخط کرنے سے ماورا ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے رواں سال جون میں ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دے دی تھی۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے کلرکوں سے انٹرویوز کے بعد جج کا کہنا تھا کہ کم ڈیوس کو بری کیا جا سکتا تھا اگر وہ اپنے نائبین کو سند جاری کرنے کی اجازت دے دیتیں تاہم کم ڈیوس نے انکار کر دیا۔

کینٹکی میں رووان کاؤنٹی کی کلرک کم ڈیوس کا کہنا تھا کہ ان کا عقیدہ انھیں اس قسم کے فرائض سرانجام دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

ڈسٹرکٹ جج ڈیوڈ بننگ کا کہنا تھا ان کے پاس انھیں جیل بھیجنے کے علاوہ ’کوئی متبادل راستہ‘ نہیں تھا کیونکہ ان پر جرمانہ عائد کرنے سے ان کی سوچ تبدیل نہیں ہوسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کے عقیدے کو عدالتی حکم سے بالاتر رکھنا ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی عدالت کے باہر ہم جنس شادی کے حامی اور مخالفین نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی عدالت کے باہر ہم جنس شادی کے حامی اور مخالفین نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

کم ڈیوس کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے نائب کلرک صرف کم ڈیوس کے اجازت سے سند جاری کر سکتے ہیں تاہم جج نے ان کا یہ اعتراض مسترد کر دیا۔

جمعرات کو پانچ ڈپٹی کلرکوں نے جج کے سامنے بیان دیا کہ وہ عدالتی حکم کی پاسداری کریں گے، جبکہ چھٹے نائب کلرک نیتھن نے، جو کم ڈیوس کے بیٹے بھی ہیں، اس سے انکار کر دیا۔

جج نے نیتھن ڈیوس پر توہین عدالت کا جرم عائد نہیں کیا۔

خیال رہے کہ کم ڈیوس نے جون میں ہم جنس شادیوں کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کے ساتھ شادی کے سند جاری کر روک دیے تھے اور تسلسل سے ہم جنس جوڑوں کو شادی کے سند دینے سے انکارکیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی عدالت کے باہر ہم جنس شادی کے حامی اور مخالفین دونوں گروہوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔