کیتھولک پادریوں کی نمائندہ مجلس میں مفاہمت

،تصویر کا ذریعہAP
رومن کیتھولک فرقے کے پادریوں میں کلیسا کی نمائندہ مجلس میں خاندان کےمتنازع معاملے پر مفاہمت طے پا گئی ہے۔
تین ہفتوں تک روم کے کیتھولک پادریوں نے مختلف متنازعہ امور پر بات چیت جاری رکھی۔
یہ سامنے آیا ہے کہ طلاق کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیا گیا ہے تاہم ہم جنس پرستی کے حوالے سے چرچ نے اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
پوپ فرانسس نے اپنے بیان میں بظاہر قدامت پسند پادریوں پر تنقید کی ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’چرچ کو مشکل معاملات کا ’بے خوف و خطر‘ مقابلہ کرنا چاہیے، اپنے سروں کو ریت میں ڈالنے کے بجائے۔‘
چرچ اپنے خاندان سے کیا سلوک کرے گا اس سے متعلق آرٹیکل 94 پر پادریوں نے ووٹ ڈالے۔
سب سے متنازع مسئلہ کہ کیا دوسری شادی کرنے والوں یا طلاق یافتہ افراد کو چرچ میں کوئی مکمل عہدہ دینے کی اجازت ہونی چاہیے منظور ہوگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چرچ کی ان تعلیمات کا اعادہ تو کیا گیا کہ ہم جنس پرستوں سے امتیازی رویہ نہ اپنایا جائے تاہم یہ بھی کہ دیا گیا کہ ہم جنس پرست شادیوں کے لیے کوئی بھی جگہ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین ہفتوں تک جاری رہنے والے اس اجتماع کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ اس میں خاندانوں کی آوازوں کو سنا جائے۔
نامہ نگار کیرولین یاٹ کا کہنا ہے کہ حتمی دستاویز میں بظاہر مفاہمت دیکھنے کو ملی لیکن پوپ نے اس کے ساتھ کیا گہا اور اسے کیسے آگے پہنچایا ابھی یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جو بات بالکل عیاں ہے وہ یہ ہے کہ پوپ چاہتے ہیں کہ چرچ ان لوگوں کے لیے جو سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں رحم دلی کا مظاہرہ کرے اور کم تنقید کرے۔
پوپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ چرچ کے اندر بھی تضادات ہیں ’جو ایک براعظم کے پادری کے لیے عام بات ہے وہ کسی دوسرے پادری کے لیے باعث حیرت اور بیہودہ ہے۔‘
یہ دستاویز منظور شدہ ہے تاہم پوپ فرانسس فیصلہ کریں گے کہ اسے آگے لے کر جانا ہے یا نہیں۔
کلیسا کی نمائندہ مجلس کے آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا تھا جب ایک پادری کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست رہے ہیں۔ بعد ازاں انھیں ویٹیکن میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔







