اسرائیل میں مقدس رومن کیتھولک چرچ میں آگ

آگ کی وجہ سے چرچ کمپلیکس کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآگ کی وجہ سے چرچ کمپلیکس کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے

شمالی اسرائیل میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ گلیلی کے سمندر پر رومن کیتھولک چرچ میں لگنے والی آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے۔

تابغا میں بنائے گئے چرچ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ اس جگہ بنایا گیا تھا جہاں حضرت عیسیٰ نے روٹی اور مچھلیوں کا معجزہ دکھایا تھا جسے عام طور پر 5,000 لوگوں کو کھانا کھلانا بھی کہا جاتا ہے۔

دیوار پر عبرانی زبان میں لکھی ’گرافیٹی‘ یا عبارت سے لگتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے۔

پولیس نے 16 جوان لڑکوں کو حراست میں لیا لیکن بعد میں انھیں چھوڑ دیا۔

ترجمان لوبا سمری نے کہا ہے کہ ان کو انٹرویو اور بیانات قلمبند کرانے اور بغیر کسی شرائط کے چھوڑا گیا ہے۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے مطابق ہزاروں عیسائیوں کے لیے تبغا ایک اہم مقدس مقام ہے اور یہاں ہر سال کئی ہزار افراد آتے ہیں۔

دیوار پر عبرانی زبان میں لکھی گئی ایک تحریر میں کہا گیا تھا کہ بتوں کی پوجا کرنا غلط ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندیوار پر عبرانی زبان میں لکھی گئی ایک تحریر میں کہا گیا تھا کہ بتوں کی پوجا کرنا غلط ہے

چرچ میں لگائی گئی آگ سے ایک کتابوں کی دکان اور کمپلیکس میں موجود دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم پانچویں صدی کا پھولوں والا فرش تباہ نہیں ہوا۔

کمپلیکس میں مقیم دو افراد کو بھی دھویں میں سانس لینے کی وجہ سے ہسپتال پہنچایا گیا۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق اس گرافیٹی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں کا کام ہے جو کہ اسرائیل میں غیر یہودی اہداف پر حملے کرتے ہیں۔

اندرونی سلامتی کے وزیر گیلاد ایردان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چرج کو جلانا ایک بزدلانہ اور قابلِ نفرت فعل ہے جو اسرائیل کی بنیادی اقدار کے خلاف ہے۔‘

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پریشر گروپ فار ہیومن رائٹنس کا کہنا ہے کہ 2009 سے اسرائیل اور مقبوضہ غربِ اردن میں مسجدوں، کلیساؤں اور خانقاہوں پر 43 حملے ہو چکے ہیں۔