اسرائیل:جنگل کی آگ ’بےقابو‘ ہوگئی

شمالی اسرائیل میں جمعرات کو لگنے والی آگ پر تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ جنگل میں لگنے والی اس آگ کو بجھانے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔
اسرائیل کی آگ بجھانے والی سروس نے سنیچر کی صبح میڈیا کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کا ابھی آگ پر قابو پانا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ملک کے تیسرے بڑے شہر حیفہ کے نزدیک گرمل کی پہاڑیوں پر آتشزدگی کو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے جمعہ کی شام بین الاقوامی مدد کی اپیل کی تھی اور اب آگ پر قابو پانے کے لیے قبرص، یونان، ترکی، بلغاریہ، اردن، مصر اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والا آگ بجھانے والا عملہ اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔
امریکہ نے اپنے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کو اسرائیل بھیجنے کے علاوہ آگ بجھانے والے آلات کے علاوہ اضافی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی آگ پر قابو پانے والے یونٹ کو اسرائیل بھیجا ہے۔
ادھر تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ آگ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ یہ آگ کوڑا کرکٹ کے ایک ڈھیر سے شروع ہوئی۔ پولیس نے ان دو افراد کو بھی رہا کر دیا ہے جنہیں یہ آگ لگانے کے شبہ میں پکڑا گیا تھا۔
اسرائیل میں آتشزدگی کے اب تک کے اس سب سے بڑے واقعے میں اکتالیس افراد جھلس کر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سترہ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کے روز آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے افراد جیل کے محافظ تھے اور ان کی بس آگ میں پھنس گئی تھی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملکی تاریخ میں لگنے والی یہ سب سے بد ترین آگ ہے جس نے سات ہزار ایکٹر رقبے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسرائیل کو ان دنوں خشک سالی کا سامنا ہے کیونکہ موسم خزاں سے اب تک کوئی قابلِ ذکر بارش نہیں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







