میانمار کے سابق فوجی حکمران کی سوچی کے لیے حمایت

،تصویر کا ذریعہGetty
میانمار کے سابق فوجی حکمران نے آن سان سوچی کو ملک کے ’مستقبل کی رہنما‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کا عہد کیا ہے۔
سابق حمکران جنرل تھان شوے کے پوتے نے بتایا کہ انھوں نے ایک خفیہ ملاقات کے دوران اس تعاون کا عہد کیا ہے۔
<link type="page"><caption> اقتدار کی منتقلی کے لیے سوچی کی صدر سے ملاقات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_suu_kyi_meet_sein_mayanmar_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے اپنے فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ یہ ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔
خیال رہے کہ پہلے سوچی کو جنرل شوے ایک دشمن کے طور پر دیکھتے تھے۔
سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے رواں سال اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں زبردست یک طرفہ کامیابی حاصل کی تھی۔
گذشتہ 25 برسوں کے دوران یہ پہلا انتخاب تھا جو کھلے طور پر منعقد کیا گیا۔
میانمار میں بی بی سی کے جونا فشر کا کہنا ہے کہ 80 سالہ جنرل تھان شوے سنہ 2011 تک فوجی حکومت کے سربراہ رہے ملک میں ان کے زبردست اثرورسوخ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے پوتے شوے تھوے آنگ کے مطابق انھوں نے ملاقات کے دوران کہا: ’سچ تو یہ ہے کہ وہ ملک کی مستقبل کی رہنما بننے جا رہی ہیں اور میں ہر طرح سے ان کا تعاون کروں گا۔‘
اس سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جنرل شوے کے بیان سے آئین کی وہ شق بدل سکتی ہے جس کے تحت سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔
آنگ سان سوچی کے صدر بننے میں آئین کی وہ شق رکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا اور سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔
گذشتہ ہفتے میانمار کی اہم شخصیات کے درمیان حکومت سازی کے متعلق باتیں ہوتی رہیں جن میں ایک اہم بات یہ تھی کہ میانمار کا اگلا صدر کون ہوگا۔
اس سے قبل مز سوچی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں صدر کے لائق آدمی مل جائے گا لیکن وہ پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے مجھے کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے نہیں روکے گا۔







