میانمار میں اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ نہیں ہوگی: صدر تھین

صدر تھین سین

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع ہے کہ صدر تھین سین نے اقتدار کی منظم منتقلی کا بیان عوامی سطح پر دیا ہے

میانمار کے صدر تھین سین نے وعدہ کیا ہے کہ عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی کی حزب اختلاف کی جماعت کو اقتدار کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

رنگون میں تھین سین نے یہ بات سیاسی جماعتوں کے ایک اجلاس میں کہی۔

آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے حالیہ انتخابات میں 80 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ ابھی کچھ نتائج آنا باقی ہیں۔

اگر اقتدار کی منتقلی ہو جاتی ہے تو میانمار میں فوج کی حمایت یافتہ 50 سال حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں صدر نے کہا کہ تمام فرائض نئی حکومت کو منظم طریقے اور ترتیب کے ساتھ منتقل کیے جائیں گے۔

صدر تھین نے کہا کہ ’ہم اس مرحلے کو ہموار اور مستحکم ہونے کو یقینی بنائیں گے۔‘

میانمار کے صدر اس سے پہلے بھی ایسا بیان دے چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کے انھوں نے عوامی سطح پر اس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان انتخابات کے کامیاب ہونے کی وجہ وہ اصلاحات ہیں جو ان کی جماعت نے پیش کی تھیں۔اب تک کے نتائج کے مطابق کل 478 نشستوں میں سے ان کی جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیولیپمنٹ پارٹی نے صرف 41 نشستیں حاصل کی ہیں۔

دوسری جانب فوج پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرے گی۔

اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ ہفتے آنگ سان سوچی صدر تھین اور فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کریں گی۔