انتخابات ’شفاف تو تھے لیکن آزاد نہیں‘: سوچی

،تصویر کا ذریعہAP
میانمار میں حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے انتخابات ’شفاف تو تھے لیکن آزاد نہیں۔‘
انتخابات کے بعد دیے جانے والے پہلے انٹرویو میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے مینمار کے لوگوں کو مبارکباد دی۔
اگرچہ آئین کے تحت وہ صدر نہیں بن سکتیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی راستہ ڈھونڈ نکالیں گی۔
میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی ہے اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔
اس سے قبل میانمار میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ملک میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ انتخابات کے نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
این ایل ڈی کے ایک ترجمان ون تھین نے سوموار کی سہ پہر اعلان کیا کہ ان کی جماعت کو 70 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ این ایل ڈی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے کہا کہ ’آپ سب کو انتخابی نتائج کا اندازہ تو ہو ہی گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فوجی کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی ڈویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) سنہ 2011 سے اقتدار میں ہے۔
برما میں آئین کے مطابق منتخب اسمبلی میں ایک چوتھائی نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں اور این ایل ڈی کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے جن نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں ان میں دو تہائی پر کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔
آنگ سان سوچی کے لیے صدر بننے میں ایک اور رکاوٹ آئین کی وہ شق ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔ آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔
میانمار میں اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ملک کے 80 فیصد شہریوں نے ووٹ ڈالے۔







