روہنجیا مسلمانوں پر تشدد نسل کشی نہیں: سوچی

آنگ سان سوچی
،تصویر کا کیپشنآنگ سان سوچی کا کہنا تھا کہ فسادات کے باعث بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے

برما میں حزبِ مخالف کی رہنما آنگ سان سوچی نے ملک میں روہنجیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے نسلی فسادات کو نسل کشی قرار دینے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تشدد کے ان واقعات میں بودھوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> برما: روہنجیا مسلمانوں کی کشتیاں الٹ گئیں</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/05/130514_burma_rohingya_boats_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> برما میں نسلی فسادات کی نئی لہر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/04/130430_barma_violence_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

ان کے بقول فسادات کے بعد دونوں جانب خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق تشدد کے واقعات کی وجہ سے ایک لاکھ 40 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

جب آنگ سان سوچی پر یہ بات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا کہ تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے توانہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ’بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے۔‘

نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر ماضی میں بھی روہنجیا مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

گذشتہ سال برما کی مغربی ریاست رخائن میں ہونے والے نسلی فسادات میں 190 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً ایک لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ برما میں مسلمانوں اور بُدھوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

رواں برس اپریل میں مذہبی فسادات کی نئی لہر پھوٹ پڑی تھی جب دارالحکومت رنگون کے قریبی قصبے آوکھان میں بدھ مت کے بلوائیوں نے مسلمانوں کی مساجد اور جائیدادوں پر حملے کیے تھے۔

ان واقعات کے بعد آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ بودھ اکثریت کے ملک برما میں مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہیے۔

اس وقت سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلمان روہنجیا آبادی اور بدھ مت کے پیروکاروں کی آبادیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا عمل جاری ہے ۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ نسلی فسادات کے خاتمے کا یہ طویل المدتی حل نہیں ہے۔

برما میں رہنے والے روہنجیا مسلمانوں کو برما کی حکومت نے شہریوں کا درجہ بھی نہیں دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنجیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔