برما میں بودھوں کے حملے میں پانچ مسلمان ہلاک

برما کی راخین ریاست میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک گاؤں پر بودھوں کے حملے میں کم از کم پانچ مسلمان ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب برما کے صدر تھان سین اسی علاقے کا دورہ کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ریاست کے ایک قصبے تھاندوے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس سے قبل ایک چورانوے سالہ عورت کی موت کی تصدیق کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق خوفزدہ مسلمان آبادی حملوں کے ڈر سے چھپی بیٹھی ہے۔
حالیہ عرصے میں انتہا پسند بودھوں نے مسلمانوں پر حملے کیے ہیں۔ اسی علاقے میں جون 2012 میں بودھوں کے حملے میں دو سو افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد بہ گھر ہوئے تھے۔
تازہ حملے سنیچر کے روز اس وقت شروع ہوئے جب ایک بودھ ٹیکسی ڈرائیور نے شکایت کی کہ ایک مسلمان نے بد تمیزی کی ہے۔
اس کے بعد مسلمانوں می ملکیت پر حملے کیے گئے اور بعد میں مسلمانوں پر تشدد کیا گیا۔
ان حملوں میں درجنوں مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ تھاندوے کے قریب ایک چورانوے سالہ عورت کو چاقو مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ایحنسی اے پی کے مطابق تقریباً سات سو بودھوں نے حملہ کیا جن کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔
ایک مسلمان رہائشی نے اے پی کو بتایا ’زیادہ تر مسلمان آبادی حملوں کے خوف سے چھپے ہوئے ہیں اور وہ باہر نہیں نکل سکتے۔‘
برما کے وزیر اعظم بدھ کو ریاست میں پہنچے جہاں وہ مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔
’صدر پر پورے ملک کے ذمہ داری ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ان کی ملکیت تباہ کی جا رہی ہے اور صدر خاموش ہیں۔‘
پچھلے سال ہوئے تصادم کے باعث مسلمان اور بودھ علیحدہ علیحدہ رہتے ہیں اور زیادہ تر مسلمان کیمپوں میں رہایش پذیر ہیں۔







