آنگ سان سوچی اپنے پہلے دورے پر چین پہنچ گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
میانمار کی حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی پہلی بار چین کے دورے پر بیجنگ پہنچ گئی ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت میں چین کا دورہ کر رہی ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی صورت حال ہے۔
سوچی اس دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گی۔ تاہم اس دورے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران کمی آئی ہے جس کی ایک وجہ مشترکہ سرحد کے قریب تشدد بھی ہے۔
میانمار مشرقی علاقے کوکانگ میں، جس کی سرحدیں چین کے صوبے یونن سے ملتی ہیں، باغیوں کے ساتھ لڑ رہا ہے۔
ان بڑھتے ہوئے فسادات پر چین کو شدید تشویش ہے اور اسی وجہ سے اس نے اپنی سرحدوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سوچی کے دورۂ چین سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ اور باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’چین امید کر رہا ہے کہ میانمار لڑائی ختم کرنے اور امن قائم کرنے سمیت چین اور میانمار سرحد پر استحکام لانے سے متعلق درخواستوں کا جلد از جلد جواب دے گا۔‘
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سوچی اپنے دورے کے دوران اپنے اور نوبل امن انعام جیتنے والے لیو ژیابو کے درمیان مماثلت کا اعتراف کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
چینی ادیب لیو ژیابو اس وقت ریاست کے خلاف اکسانے کے الزام میں 11 سال جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
تاہم بدھ کو حکام کا کہنا تھا کہ وہ انھیں رہا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے مطابق اس ’فیصلے کو تبدیل‘ کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔
جب چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے آنگ سان سوچی کے اچانک بیجنگ پہنچنے کی خبر نشر کی تو انھیں رکن پارلیمان اور ایک اہم سیاسی جماعت کی رہنما کے طور پر بیان کیا۔ وہ خود بھی ایک نوبل امن انعام جیت چکی ہیں، تاہم ان کے اس اعزاز کا ذکر نہیں کیا گیا۔
میانمار کی فوج پر مغرب کی جانب سے پابندیوں اور سوچی کے گھر میں نظر بند ہونے باوجود چین ایک وفادار اتحادی کے طور پر اس کے ساتھ رہا ہے۔
تاہم سنہ 2011 میں اصلاحات متعارف کروانے کے بعد صدر تھین سین کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کر لیے تھے۔ اس کے باوجود چین میانمار میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے مدد فراہم کرتا رہا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جمہوری میانمار چین کے لیے ایک مشکل اتحادی ہے، لیکن امید ہے کہ سوچی کی حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ آنے والے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں امید ہے کہ سوچی اہم کردار ادا کریں گی، البتہ وہ خود ان انتخابات میں شاید حصہ نہیں لے پائیں گی کیونکہ آئین کے مطابق چونکہ ان کے بچے اور خاوند غیر ملکی شہری ہیں، اس لیے وہ انتخابات نہیں لڑ سکتیں۔







