میانمار میں انتخابی مہم کا آخری دن

جمعے کو انتخابی مہم کے لیے لگائے گئے بینر اور سٹیکر اتار لیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجمعے کو انتخابی مہم کے لیے لگائے گئے بینر اور سٹیکر اتار لیے جائیں گے

میانمار میں اتوار کو ہونے والے انتخابات کے لیے امیدواروں کی انتخابی مہم کا جمعے کو آخری دن ہے۔

یہ انتخابات میانمار ، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں پچھلے 25 سالوں میں منعقد ہونے والے پہلے آزاد انتخابات ہیں۔

میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے۔

اس وقت کی حکمران جماعت یونین سولیڈیریٹی ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) جو 2011 سے حکومت میں ہے، اپنی آخری ریلی رنگون میں نکال رہی ہے۔

آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) سے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، حالانکہ آنگ سان سوچی برما کے آئین کے تحت ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔

لیکن رنگون میں موجود بی بی سی کے نمائندے جونا فشر کا کہنا ہے کہ ابھی تک میانمار میں کوئی قابل اعتبار سروے نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ لوگوں کا ووٹ کس طرف جائے گا۔

جمعے کو انتخابی مہم کے لیے لگائے گئے سائن اور سٹیکر اتار لیے جائیں گے، جس کے بعد رات 12 بجے سے لے کر انتخابات کے دن تک کسی بھی سیاسی سرگرمی پر پابندی ہوگی۔

آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی جیت گئی تو وہ ہی حکومت کی رہنمائی کریں گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی جیت گئی تو وہ ہی حکومت کی رہنمائی کریں گی

نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی سوچی، اپنی پارٹی این ایل ڈی کے کامیاب ہونے کے باوجود بھی ملک کی صدر نہیں بن سکیں گی، کیونکہ میانمار کے آئین کے مطابق کوئی بھی شخص جس کے بچے غیر ملکی ہوں، ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔

تاہم جمعرات کو ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سوچی نے اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ اگر ان کی پارٹی جیت گئی تو وہ ہی حکومت کی رہنمائی کریں گی اور وہ ’صدر سے بالاتر‘ ہوں گی۔

پچھلے 50 سالوں سے فوجی جنتا کی حکومت کی بعد میانمار میں حالیہ برسوں کے دوران کئی معاشی اور سیاسی اصلاحات کی گئی ہیں۔

لیکن میانمار کے آئین کے مطابق ان انتخابات میں پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں فوج کے لیے مختص ہوں گی۔

اس لیے این ایل ڈی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے تمام انتخابی نشستوں میں سے 67 فیصد جیتنا لازمی ہوں گی۔

سوچی پہلے ہی انتخابات میں دھاندلی اور بے ترتیبی کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں۔

1990 کے انتخابات میں بھی این ایل ڈی نے ا کثریت حاصل کر لی تھی لیکن فوج نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

حکومت نے کہا ہے کہ اچانک تبدیلی سے ملک میں بدامنی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔