اقتدار کی منتقلی کے لیے سوچی کی صدر سے ملاقات

آنگ سان سوچی کے صدر بننے میں آئین کی وہ شق روکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا اور آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآنگ سان سوچی کے صدر بننے میں آئین کی وہ شق روکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا اور آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں

میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی نے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی زبردست کامیابی کے بعد اقتدار کی منتقلی کے لیے صدر تھین سین سے ملاقات کی ہے۔

وہ ملک کے فوجی سربراہ سے بھی ملاقات کریں گی۔

فوجی سربراہ اور صدر دونوں نے صاف شفاف اور پرامن طور پر اقتدار کی منتقلی میں تعاون کا عہد کر رکھا ہے۔

<link type="page"><caption> میانمار میں اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ نہیں ہوگی: صدر تھین</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151115_myanmar_president_power_transfer_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ میانمار میں دہائیوں تک فوج کی حمایت والی حکومت رہی ہے۔

آنگ سان سوچی آئینی طور پر ملک کی صدر نہیں بن سکتیں لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ جسے اس عہدے پر نامزد کریں گی ان کا کردار اس سے بالاتر ہوگا۔

تھین سین نے کہہ رکھا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کا احترام کریں گے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنتھین سین نے کہہ رکھا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کا احترام کریں گے

آنگ سان سوچی کے صدر بننے میں آئین کی وہ شق روکاوٹ ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جس کے کسی غیر ملکی سے بچے ہوں، وہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔ آنگ سان سوچی کے برطانوی شوہر سے دو بچے ہیں۔

صدر سین کے ایک ترجمان کے مطابق ان کی آنگ سوچی کے ساتھ بات چیت پون گھنٹے تک جاری رہی اور اقتدار کی پرامن منتقلی پر بات چیت ہوتی رہی۔

آٹھ نومبر کے انتخابات میں سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے پارلیمان کی 80 فی صد نشستیں حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

حالیہ حکومت کا دور جنوری میں ختم ہوگا اس کے بعد ہی این ایل ڈی والی نئی حکومت کے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

سوچی نے کہا ہے کہ وہ جنھیں صدر نامزد کریں گی وہ ان سے اوپر رہیں گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسوچی نے کہا ہے کہ وہ جنھیں صدر نامزد کریں گی وہ ان سے اوپر رہیں گی

پارٹی کو صدر اور دو نائب صدور کے انتخابات سے قبل فوری طور پر سپیکر کا انتخاب کرنا ہوگا۔

فوج کے پاس دونوں ایوانوں میں ایک چوتھائي نشستیں ہیں جبکہ پارلیمان کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر فوجی پارٹیوں کو دو تہائی نشستیں حاصل کرنی ہیں۔

اگر اقتدار کی منتقلی ہو جاتی ہے تو میانمار میں فوج کی حمایت یافتہ 50 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

لاکھوں لوگوں کے ووٹنگ کے حق سے محروم کیے جانے کے باوجود میانمار کی گذشتہ 25 برسوں کی تاریخ میں یہ انتخابات مجموعی طور پر جمہوری رہے۔

خیال رہے کہ بے وطن روہنجیا مسلمانوں کو ان انتخابات میں ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا تھا۔