یورپی عدالت کے فیصلوں کو نظر انداز کا قانون منظور

نئے قانون کے تحت روسی کی آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے کسی بھی ایسے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے جو روسی آئین سے متصادم ہو

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشننئے قانون کے تحت روسی کی آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے کسی بھی ایسے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے جو روسی آئین سے متصادم ہو

روس نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت یعنی ’یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس‘ کے فیصلوں کو نظر انداز کیا جاسکے گا۔

روس کی پارلیمنٹ نے یہ قانون اسی روز منظور کیا جس دن یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے روس کے وفاقی سکیورٹی ادارے کے خلاف جاسوسی کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ روس نے موبائل فونوں پر ہونی والی بات چیت سن کر رازداری کے حقوق کی خلاف وزی کی ہے۔

روس کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے اس قانون کے تحت روسی آئین کسی بھی دوسرے قانون پر مقدم ہے۔

اس نئے قانون کے تحت روسی کی آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے کسی بھی ایسے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے جو روسی آئین سے متصادم ہو۔

روس کے خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اس قانون کا مقصد انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دیے جانے والے فیصلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے روسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کی جانب سے جعمے کو سنائے گئے فیصلے میں روس سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک اشاعتی ادارے کے مدیر ’رومن زکہاروو‘ کی حکومت کی جانب سے جاسوسی کرنے پر انھیں اخراجات کی مد میں 29 ہزار پانڈ بھی ادا کرے۔

عدالت نے رومن زکہاروو سے اتفاق کیا ہے کہ روس کے وفاقی سکیورٹی ادارے نے ان کی جاسوسی کرکے ان کے رازداری کے حق کی خلاف ورزی کی ہے۔

خیال رہے کہ روس نے سنہ 1998 میں ’یورپین کنوشن آن ہیومن رایٹس‘ پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت کے فیصلے ماننے کا پابند ہے۔