روس میں ’نامناسب‘ غیرملکی اداروں کے خلاف قانون کی منظوری

،تصویر کا ذریعہAP
روسی صدر ولادی میر پوتن نے غیر ملکی تنظیموں سے متعلق ایک بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد ملک کے اندر کام کرنے والی غیر ملکی تنظیموں اور اداروں پر پابندی لگائی جا سکے گی۔
اس قانون کے تحت ’نامناسب‘ یا ’ناگوار‘ غیر ملکی این جی اورز پر قومی سلامتی کو درپیش خطرے کی بنیاد پرمقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
اس کے تحت غیر ملکی این جی او کے لیے کام کر نے والے افراد پر جرمانہ لگایا جا سکتا ہے یا انھیں چھ سال کی قید ہو سکتی ہے۔
ناقدین کے خیال میں کریملن کا یہ قدم پوتن مخالف حلقوں کی آواز دبانے کا ایک طریقہ ہے۔
لیکن حامیوں کا کہنا ہے کہ بیرونی دخل اندازی کو روکنے کے لیے اور یوکرین میں روسی کردار پر جاری تنازع کی وجہ سے اس طرح کے اقدام ضروری ہیں۔
’نامناسب‘ یا ’ناگوار‘ لفظ تشریح و تعبیر کا مرہون منت ہے لیکن انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق اس کا اطلاق ان تنظیموں پر ہوگا جو ’روس کے آئینی نظام، دفاعی صلاحیت اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہوں۔‘
لیکن اس میں مضمر اثرات پر مغربی ممالک کی حکومتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو خدشہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ نے کہا ہے کہ روس کے نئے قانون سے انھیں ’سخت پریشانی‘ ہے جس کے تحت حکام کو بیرونی تنظیموں کو اس ملک میں کام کرنے سے باز رکھنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی وزارت خارجہ کی ترجمان میری حارف نے ایک بیان میں کہا: ’ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اس نئےاختیار سے روس میں سول سوسائٹی کے کام پر مزید پابندی لگے اور یہ روسی حکومت کا آزاد آواز پر بڑھتی پابندیوں کی مثال ہے اور اس کے ذریعے دانستہ طور پر روس کے عوام کو دنیا سے علیحدہ کرنا ہے۔‘
برطانیہ کے یورپ کے لیے وزیر ڈیوڈ لیڈنگٹن نے کہا کہ ’یہ روسی حکام کی این جی اوز اور دوسرے لوگوں کو حراساں کرنے کی ایک اور مثال ہے جو روس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اس کی مخالفت کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ’یہ بل سول سوسائٹی سے زندگی کی رمق چھین لے گی‘ جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اس سے مقامی زیادہ متاثر ہوں گے۔







