’یوکرین روس کے ساتھ حقیقی جنگ میں ہے‘

پوروشینکو نے کہا کہ پوتن پر بھروسہ نہ کرنے کے باوجود ان کے پاس سفارتکاری کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنپوروشینکو نے کہا کہ پوتن پر بھروسہ نہ کرنے کے باوجود ان کے پاس سفارتکاری کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے

یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ اب ان کا ملک روس کے ساتھ ’حقیقی جنگ‘ میں ہے اور یوکرین کے باشندوں کو روسی حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صدر پیٹرو پوروشینکو نے بی بی سی کے فرگل کین کو بتایا کہ انھیں اپنے روسی ہم منصب پر بھروسہ نہیں ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ان کے پاس روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے۔

روس مغربی ممالک کے الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس نے باقاعدہ فوجی اور بکتر بند گاڑیاں یوکرین میں باغیوں کی مدد کے لیے بھیجی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اپریل سنہ 2014 میں مشرقی یوکرین میں جنگ کی ابتدا سے اب تک کم از کم 6000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس نواز باغیوں کو اس علاقے میں خاطر خواہ کامیابیاں بھی ملی ہیں جن میں حال ہی میں ریلویز کے مرکز دیبالتسیوے پر قبضہ شامل ہے۔

روس نواز باغی اور روس دونوں ہی موسکو سے کسی قسم کے تعاون کی تردید کرتے ہیں۔

پوروشینکو نے کہا کہ روس کے جنگ میں شامل ہونے کے واضح شواہد ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپوروشینکو نے کہا کہ روس کے جنگ میں شامل ہونے کے واضح شواہد ہیں

لیکن سنیچر کو یوکرین میںدو افراد کی گرفتاری کے بعد روس کے کردار پر ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ روسی فوجی ہیں اور مشرقی یوکرین میں کام کر رہے ہیں۔

ایک ویڈیو میں انھوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ سرگرم روسی فوجی ہیں لیکن روس کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے کے بعد سے وہ اب روسی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔

صدر پورشینکو نے کہا: ’کیا میں آپ کو بالکل واضح انداز میں نہ بتادوں کہ جن لوگوں سے ہم برسرپیکار ہیں وہ روس نواز علیحدگی پسند نہیں ہیں بلکہ یہ روس کے ساتھ ایک حقیقی جنگ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس کا ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ ہم نے دو باقاعدہ روسی فوجیوں کو پکڑا ہے۔‘

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا انھیں گرمیوں میں روسی حملے کا خوف ہے تو انھوں نے کہا: ’مجھے کسی چیز کا خوف نہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ ایک حملے کی تیاری کر رہے ہیں اور میرے خیال میں ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہمیں اسے اشتعال کا کوئی بھی چھوٹا موٹا بہانہ بھی نہیں دینا چاہیے۔ یہ پوری طرح ان کی ذمہ داری ہوگی۔‘

منسک میں فروری میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا تاہم جنگ بندی پر پوری طرح عمل در آمد نہیں ہو سکا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمنسک میں فروری میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا تاہم جنگ بندی پر پوری طرح عمل در آمد نہیں ہو سکا ہے

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پوتن پر بھروسہ نہ کرنے کے باوجود ان کے پاس سفارتکاری کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ خدشہ ہے کہ مشرقی یوکرین کو صرف فوجی کارروائی کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا یعنی سفارتکاری ہی اس کا حل ہے۔

منگل کو نیٹو کے سکریٹری جنرل جنس سٹولنبرگ نے یوکرین کی سرحد کے پاس روسی فوجی مشق کو بند کیے جانے کی اپیل کی ہے اور روس سے اپنی ’فوجی سرگرمیوں کے بارے مزید شفافیت برتنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ فروری میں منسک میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کے باوجود بھاری اسلحوں سے جنگ جاری رہی۔

گذشتہ ہفتے صدر پوروشینکو نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے کم از کم 83 یوکرینی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق منگل کو مشرقی لوہانسک علاقے میں کم از کم چار یوکرینی فوجی مارے گئے ہیں۔