’شیطان پھر بہکا کر انٹرنیٹ پر لے گیا‘

،تصویر کا ذریعہ
روس کی ایک تاریخی مونیسٹري کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ یہاں رہنے والوں کی عبادت میں خلل ڈال رہے ہیں۔
ویلام مونیسٹري کے سربراہ بشپ پینكراٹي کہتے ہیں: ’سمارٹ فون اور سکرین بڑے فتنے ہیں، خاص طور پر نوجوان راہبوں کے لیے اور یہ مونیسٹري کی جدید طرز زندگی کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں۔‘
انھوں نے ’آرگيومینٹي آئی فیکٹي‘ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض راہبوں نے ان کے روبرو یہ تسلیم کیا ہے کہ ’شیطان ہمیں گمراہ کرکے دوبارہ انٹرنیٹ تک لے گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایک راہب نے تو ’ویب میں مگن ہو جانے کے بعد‘ ولام مونیسٹري کو چھوڑ دیا۔
بشپ کو یہ خدشہ ہے کہ ان کی خانقاہ میں 150 تربیت پانے والے راہبین ’بلاگ لکھنے، چیٹ کرنے اور دعایہ کلمات پوسٹ کرنے‘ میں مصروف ہو جائیں گے جیسا کہ روس اور دنیا کی دوسری عیسائی خانقاہوں میں ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بشپ پینكراٹی بذات خود انٹرنیٹ کا استعمال بند کر کے مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ہچکچاتے ہوئے انٹرنیٹ کا استعمال صرف ’مذہبی امور اور تازہ واقعات کی معلومات، ای میل بھیجنے اور موسم کی معلومات‘ کے لیے کرتے ہیں۔
وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سمارٹ فون پر مکمل طور پابندی لگانا مشکل امر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ نیک نیتی کے انعام کے طور پر عام اور سادہ سے موبائل فون سیٹ دیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ یونان کی ماؤنٹ ایتھوز مونیسٹري میں ہو رہا ہے۔
بشپ کے پاس بھی سمارٹ فون ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر بنے آدھے کٹے ہوئے سیب کا نشان انھیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ’آدم اور حوا نے خدا کے سامنے گناہ کیا تھا۔‘







