چین کا سوشلزم سے ہم آہنگ چرچ بنانے کا ارادہ

ایک اندازے کے مطابق چین میں 23 سے 40 ملین لوگ پروٹیسٹنٹ عیسائی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق چین میں 23 سے 40 ملین لوگ پروٹیسٹنٹ عیسائی ہیں

چین کے مذہبی امور کے محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ چین ملک میں عیسائیت کے فروغ کی حمایت کرتا ہے اور ایسا چینی عیسائی مذہب قائم کرسکتا ہے جو ملکی ثقافت اور سوشلٹ اقدار سے مطابقت رکھتا ہو۔

چین کے مذہبی امور کے ایک اعلیٰ اہلکار وانگ زوان نے شنگھائی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کہا کہ چین ملک میں عیسائیت کے فروغ کا حامی ہے لیکن چین کی عیسائی اقدار کو چین کے قومی حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

چین کے سرکاری اخبار<link type="page"><caption> چائنا ڈیلی </caption><url href="http://europe.chinadaily.com.cn/china/2014-08/07/content_18262928.htm" platform="highweb"/></link>نے شنگھائی میں ’سنیئزیشن آف کرسچینٹی‘ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس کی رپورٹنگ کے دوران کہا کہ چین عیسائیت کے فروغ کا حامی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چین میں 23 سے 40 ملین لوگ پروٹیسٹنٹ ہیں اور ہر سال پانچ لاکھ نئے لوگ پروٹیسٹنٹ بن رہے ہیں۔

چین کی حکمران کیمونسٹ پارٹی کسی مذہب کو نہیں مانتی اور ماضی میں اس کے چرچ کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

چین میں لوگوں کو صرف حکومت کی منظور شدہ جگہوں پر عبادت کرنے کی اجازت ہے۔ چین میں البتہ کئی خفیہ چرچ قائم ہیں۔

چین کے یروشلم کے نام سے جانے جانے والے شہر وان زومیں ہر دسواں شخص عیسائی مذہب کو ماننے والا ہے۔ وان زو میں حکام حکومتی اجازت کے بغیر کھولےگئے گرجا گھروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

حکام کئی ایسی عمارتوں کو گرا چکے ہیں جنہیں غیر قانونی طور پر چرچ بنایا گیا تھا۔<link type="page"><caption> روزنامہ تے پائی</caption><url href="http://www.taipeitimes.com/News/front/archives/2014/07/29/2003596164" platform="highweb"/></link> کے مطابق وان زو میں حکام 130 غیر قانونی گرجا گھروں کو مسمار کر چکے ہیں جو حکومتی اجازت کے بغیر کھولے گئے تھے۔