مصر میں خواتین کے شیشہ پینے پر بحث؟

کچھ مرد تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر تنقید کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکچھ مرد تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر تنقید کر رہے ہیں

مصر میں انٹرنیٹ پر خواتین کے شیشہ پینے پر بحث چھڑگئی ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان کا شیشہ پینا مناسب ہے؟

پاکستان کے دیہاتوں میں مقبول حُقا اب شہروں میں بھی اپنی نئی شکل یعنی شیشے کی صورت میں مقبولیت اختیار کر رہا ہے۔ شیشا مشرقِ وسطی سے لے کر یورپ تک نوجوانوں میں مقبول ہے۔

ادھر رمضان کے دوران مسلمان دن کے وقت خوراک، پانی اور تمباکو سے پرہیز تو کرتے ہی ہیں لیکن رات کو مصر میں کیفے شیشہ پینے والے مرد و خواتین سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب ان کیفے میں زیادہ تر مرد بیٹھتے تھے لیکن اب عرب ممالک میں پھلوں کے ذائقوں والے تمباکو کے شیشے پیتی ہوئی خواتین عام دکھائی دیتی ہیں۔

تاہم کچھ مرد تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر تنقید کر رہے ہیں۔

اس ہفتے ٹوئٹر پر عربی میں ایک جملہ 90 ہزار دفعہ نقل کیا گیا ’آپ کی ان خواتین کے بارے میں کیا رائے ہے جو شیشہ پیتی ہیں؟‘

کئی مردوں نے تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر بے حیا اور غیر اخلاقی ہونے کے الزامات لگائے۔

مصر سے ایک شخص نے لکھا ’کوئی خاتون تمباکو نوشی اس لیے کرتی ہے کہ اس کے پاس کچھ اور کرنے کو نہیں ہوتا اور اس کے والدین اس پر کڑی نظر نہیں رکھتے ہیں۔‘

دوسری جانب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی کرنے سے پہلے ان کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کے خاوند یا بیوی تمباکو نوشی کرتے ہیں یا نہیں۔

ایک شخص نے لکھا ’اسے پورا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جیے لیکن پھر مجھے بھی پورا حق ہے کہ میں تمباکو نوشی کرنے والی کسی خاتون سے شادی نہ کروں۔‘

کئی مردوں نے تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر بے حیا اور غیر اخلاقی ہونے کے الزامات لگائے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی مردوں نے تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پر بے حیا اور غیر اخلاقی ہونے کے الزامات لگائے ہیں

اس ہیش ٹیگ سے کئی عرب خواتین ناراض بھی ہوئی ہیں۔

ایک نوجوان مصری خاتون نے لکھا ’اس جنسی امتیاز کو بند کرو! خواتین کو تمھاری رائے کی کوئی پروا نہیں ہے کوئی اور کام کرو!‘

یہاں تک کہ وہ لوگ جنھیں تمباکو نوشی پسند بھی نہیں ہے انھوں نے بھی کہا کہ صرف خواتین پر تنقید کرنا غلط ہے۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک خاتون نے لکھا ’مجھے شیشہ پینا بہت زہر لگتا ہے لیکن مجھے یہ بات بھی بہت بری لگتی ہے کہ لڑکیوں کا شیشہ پینا زیادہ برا سمجھا جاتا ہے۔‘

اس ہیش ٹیگ سے کئی عرب خواتین ناراض بھی ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہtwitter

،تصویر کا کیپشناس ہیش ٹیگ سے کئی عرب خواتین ناراض بھی ہوئی ہیں

اس موضوع پر پہلے بھی آن لائن بحث ہو چکی ہے۔ مئی میں بالکل اسی ہیش ٹیگ نے سعودی عرب میں بھی ٹرینڈ کیا تھا۔

ایک سعودی نے اس وقت لکھا تھا ’جو خواتین شیشہ پیتی ہیں وہ کم نسوانی لگتی ہیں۔‘

گذشتہ سال بی بی سی ٹرینڈنگ نے ایک ملتی جلتی بحث کے بارے میں خبر دی تھی جو سعودی عرب میں شروع ہوئی تھی۔

ایک کیفے نے ان خواتین پر پابندی لگائی تھی جو کسی مرد سرپرست کے بغیر کھلے عام شیشہ پینے آتی تھیں۔

بلکہ خطے میں صنفی امتیاز کے بارے میں بات چیت تمباکو سے کہیں زیادہ آگے تک چلی گئی۔

جس دن تمباکو نوشی کا موضوع مصر میں ٹرینڈ کر رہا تھا اسی دن ایک اور ہیش ٹیگ 70 ہزار سے زیادہ مرتبہ ٹویٹ کیا گیا تھا، جس میں پوچھا گیا تھا ’آپ کی ان خواتین کے بارے میں کیا رائے ہے جو نہاتی ہیں؟‘

اس سوال سے پریشان ہو کر کئی لوگوں نے ٹویٹ کر کے پوچھا کہ کیا یہ ہیش ٹیگ ایک مذاق تھا۔ایک لبنانی خاتون نے لکھا ’جب بھی کوئی بیزار ہو رہا ہوتا ہے تو بات چیت کرنے کے لیے خواتین کا موضوع ہی سب سے دلچسپ ہوتا ہے۔‘