’ایئر ایشیا کا طیارہ خراب پرزوں کی وجہ سے تباہ ہوا‘

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈونیشیا کے حکام نے کہا ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں ایئرایشیا کےطیارے کی تباہی میں خراب پرزوں اور طیارے کے عملے کے ردعمل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں ایئر ایشیا کا طیارہ اس وقت تباہ ہو گیا تھا جب وہ جاوا سمندر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ طیارے کی تباہی میں ہلاک ہونے والے 162 افراد میں سے اکثریت انڈونیشیا کے شہریوں کی تھی۔

ایئر ایشیا کے طیارے کی تباہی کے بعد یہ پہلی بڑی تحقیقی رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارے میں فنی خرابی کے سامنے آنے کے بعد جہاز کے عملے نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا اس نے طیارے کی تباہی میں کردار ادا کیا۔

تحقیق کاروں نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں عندیہ دیا تھا کہ خراب موسم طیارے کی تباہی کی بڑی وجوہات میں سے ایک تھا۔

ایک سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ طیارے کے رخ کو موڑنے والے الیکٹرانک آلےکی ویلڈنگ ٹوٹنے سے اس نظام نے طیارے کے پائلٹ کو چار وارننگ جاری کیں جس کی وجہ سے طیارے کے عملے نے طیارے کے کمپیوٹر نظام کو ری سیٹ کر کے مسئلےکا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

طیارے کے کمپیوٹر نظام کو ری سیٹ کرنے سے طیارے کا آٹوپائلٹ فنکشن ناکارہ ہوگیا اور اس طرح طیارے کا عملہ طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھا۔

کمپیوٹر نظام کو ری سیٹ کرنے کے عمل میں طیارے کا تمام کمپوٹر نظام لمبے وقفے تک ناکارہ ہوگیا جس سے طیارے کا عملہ طیارے کو نظام کو دوبارہ ٹھیک کرنے کا اہل نہ ہو سکا۔

طیارے کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کو طیارے کے اس نقص کے بارے میں آگاہی تھی اور وہ پہلے بھی 23 بار خراب ہو چکا تھا لیکن کمپیوٹر نظام کو ری سیٹ کرنے سے یہ نظام دوبارہ صحیح کام کرنے لگتا تھا۔

ایئرایشیا ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹیو ٹونی فرنینڈیز نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے تحقیق کارروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تحقیق میں ایئر ایشیا اور ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ایوی ایشن انڈسٹری اس تحقیق سے سبق سیکھے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے 162 مسافروں کے رشتہ داروں کو اس تحقیق کے رپورٹ کا بے چینی سے انتظار تھا۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے سے ایئرایشیا کی انتظامیہ کو بہت سارے سوالوں کا دینا ہوگا، جن میں اہم ترین ہے کہ طیارے کے کمپیوٹر نظام میں خرابی کا علم ہونے کے باوجود اسے مکمل طور پر ٹھیک کیوں نہیں کیا گیا۔