ایئر ایشیا کے طیارے کا ڈھانچا نکالنے کا منصوبا معطل

حکام کہ کہنا ہے کہ طوفانی موسم کی وجہ سے منصوبی پر اثر پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کہ کہنا ہے کہ طوفانی موسم کی وجہ سے منصوبی پر اثر پڑا ہے

انڈونیشیا کی فوج نے ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے ڈھانچے کو سمندر کی تہہ سے اٹھانے کے منصوبے کو معطل کر دیا ہے جو دسمبر میں جاوا کے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

امدادی ٹیمیں طیارے کے ڈھانچے کو اٹھانے کی تین ابتدائی کوششوں میں ناکام رہیں۔

ابتدائی طور پر حکام کا خیال تھا کہ طیارے کے اندر کچھ لاشیں موجود تھیں لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ڈھانچے کو باہر نکالنا ان کی توجہ کا مرکز نہیں ہے کیونکہ طیارے میں کوئی متاثرین موجود نہیں ہیں۔

اب تک جہاز میں سفر کرنے والے 162 لوگوں میں سے صرف ستر لاشیں ملی ہیں۔

ڈھانچے کو سمندر سے نکالنے کے منصوبے کو طوفانی موسم کی وجہ سے مشکلیں پیش آئیں۔

انڈونیشیا کے فوجی سربرہ جنرل مولڈوکو نے بی بی سی کہ بتایا کہ طیارے کا ڈھانچا زیادہ نازک بن جانے کی وجہ سے اب سمندر سے نہیں نکالا جا سکتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے فوجیوں کو اپنے اڈے پر واپس آنے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا جب کچھ غوطہ خوروں کی طبعیت پانی کے شدید دباؤ سے ناساز ہو گئی۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔

حادثے کی ابتدائی رپورٹ اس ہفتے درج کرائی جانے کی توقع ہے لیکن مکمل تحقیقات کو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

طیارے کی کاک پٹ کا وائس ریکارڈر اور پرواز کا ڈیٹا ریکارڈر اس ماہ کے اوائل میں مل گیا تھا۔

انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ اگنیسیس جونان کے مطابق ریکارڈرز سے حاصل شدہ معلومات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طیارے نے اڑان بہت تیزی سے پکڑی اور پھر ٹھہر گیا اور گر کر تباہ ہو گیا۔