کینیڈا کی مِس ورلڈ کو مقابلۂ حسن سے روک دیاگیا

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کے لیے کینیڈا سے تعلق رکھنے والی حسینہ کا کہنا ہے کہ اُنھیں ہانگ کانگ سے چین کے شہر جانے کے لیے طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا گیا جہاں اِس سال کی مِس ورلڈ کی تقریب منعقد ہونی ہے۔
چین میں پیدا ہونے والی 25 سالہ انستازیا لِن کا کہنا ہے کہ اُنھیں مس ورلڈ کے مقابلے میں شرکت کا دعوت نامہ نہیں دیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ ویزا کے لیے درخواست نہیں دے سکتی ہیں۔
اجازت نہ ملنے پر مِس لن نے ہانگ کانگ کے راستے چین کے شہر سانیا جانے کی کوشش کی، کیونکہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کو وہاں سے ویزا لگوانے کی اجازت ہے۔
لِن نے الزام لگایا ہے کہ اُن پر پابندی اُن کی انسانی حقوق کے لیے چلائی جانی والی مہم کے باعث لگائی گئی ہے۔
اُنھوں نے چین میں ’ظلم اور سینسر شپ‘ پر شدید تنقید کی تھی۔ لِن فلان گونگ کے نظریے کی پیروکار ہیں اور یہ وہ روحانی تحریک ہے جسے چین میں مسلک یا عقیدہ سمجھا جاتا ہے اور اِس پر پابندی ہے۔
عالمی مقابلہ حسن 19 دسمبر کو سانیا میں سمندر کے کنارے ایک سیاحتی مقام پر ہونا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جب لِن نے پہلی بار یہ کہا تھا کہ اُنھیں شرکت کے لیے دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے تو بی بی سی نے مقابلہ حسن کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اُن کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
کینیڈا کے اخبار ’دا گلوب اینڈ میل‘ نے لِن کے معاملے میں اوٹوا میں قائم چینی سفارت خانے کے حکام کا ردعمل شائع کیا ہے جس کے مطابق ’چین کسی بھی ناپسندید شخص کو چین میں آنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لِن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میرے لیے انکار بدقسمتی ہے لیکن یہ غیر متوقع نہیں ہے۔ چین نے مجھے سیاسی بنیادوں پر مقابلے میں شرکت سے روکا ہے۔‘
’وہ مجھے میرے عقائد کی سزا دینا چاہتے ہیں اور مجھے انسانی حقوق کے حوالے سے گفتگو سے روکنا چاہتے ہیں۔‘
لِن کا مزید کہنا تھا کہ جب اُنھوں نے ہانگ کانگ کے ہوائی اڈے پر ڈریگن ایئر کے کاؤنٹر سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو انھیں سفر سے روک دیا گیا۔
بی بی سی کو دکھائی گئی ایک ای میل میں لِن کی سفری ساتھی کیسی کوکس سے ایئرلائن کے حکام نے کہا تھا کہ اُنھیں سانیا کے حکام کے ساتھ ٹیلی فون پر انٹرویو کے لیے لِن کے ساتھ کاؤنٹر پر آنا ہوگا۔ اِس گفتگو کے دوران اُنھیں بتایا گیا کہ وہ سانیا میں داخل نہیں ہو سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جب بی بی سی نے ڈریگن ایئر سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ ’پرائیویسی‘ یعنی رازداری کے قانون کے باعث معلومات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
لِن کم عمری میں سنہ 2003 میں چین سے کینیڈا منقتل ہوگئی تھی۔
وہ فلموں میں فالن گونگ کے ارکان سے ہونے والی زیادتی کے حوالے سے کام کر چکی ہیں اور جولائی میں امریکہ کی کانگریس کمیٹی کے سامنے بھی اِس بارے میں بات کر چکی ہیں۔
اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حکام چین میں قیام پذیر ان کے والد کو بھی لِن کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہراساں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ابتدا میں فالن گونگ ایک روحانی تحریک تھی، جس کے بعد جلد ہی اس کے ہزاروں پیروکار بن گئے۔ چینی حکام اِس کو ایک مسلک یا عقیدہ سمجھتے ہیں۔
سنہ 1999 میں جب فالن گونگ کے ماننے والوں نے اپنی شناخت کے لیے احتجاج کیا تو چینی حکام نے اُنھیں غیرقانونی قرار دے کر اُن کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔







