مصر کے ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ، چار افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی سینا کے علاقے میں ایک ہوٹل پر دو خود کش حملہ آوروں اور بندوق بردار کے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت العارش کے سوئس اِن ہوٹل پر حملے کرنے والے تینوں حملہ آووروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> ’شدت پسندی، خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/11/151104_sisi_defends_security_laws_tk" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> جزیرہ نما سینا سے 3200 خاندان بے دخل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/09/150922_egypt_sinai_home_demolished_hk" platform="highweb"/></link>
ہوٹل کے گارڈز نے بارود سے بھری گاڑی پر گولی چلا دی جو بعد میں دھماکے سے پھٹ گئی لیکن دو حملہ آور ہوٹل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جنھوں نے ایک جج کو قتل کر دیا۔
دولتِ اسلامیہ سے الحاق کرنے والے سینا کے مقامی شدت پسند گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فوجی بیان کے مطابق حملے میں 12 افراد زحمی بھی ہوئے ہیں۔
تینوں حملہ آور بارود سے بھری گاڑی لے کر آئے جس پر سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد دو حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے ایک نے باروچی خانے میں خود کش حملہ کیا جبکہ دوسرے نے ایک کمرے میں جا کر گولیاں مار کر جج کو ہلاک کر دیا۔
یہ جج علاقے میں پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے مبصرین میں شامل تھے۔
ملک کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’اس طرح کی ظالمانہ کارروائی سے حکومت کو اپنے اداروں سے نہیں روک سکتی اور اس کارروائی سے وزارتِ داخلہ کے ان ارادوں کو تقویت ملی ہے جس میں وہ شمالی سینا میں دہشت گردی کی جڑ کو کاٹنا چاہتی ہے۔‘
گذشتہ ماہ ایک روسی مسافر طیارہ سینا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 224 افراد ہوئے تھے۔
روس کا کہنا تھا کہ جہاز میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی۔
سینا میں برسوں سے جنگجوں مصری حکومت کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں اور اس بغاوت میں سنہ 2013 میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد اضافہ ہوا ہے۔







