’شدت پسندی، خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, لیس ڈوسٹ
- عہدہ, نامہ نگار بین الاقوامی امور، بی بی سی
مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے ملک میں نافذ کیے جانے والے مزید سخت حفاظتی قوانین کا دفاع کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ اب بھی ملک کو جمہوریت کی راہ پر لے جا رہے ہیں۔
برطانیہ کے سرکاری دورے سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر السیسی کا کہنا تھا کہ مصر کو شدت پسند تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے جبکہ پڑوسی ممالک کی بگڑتی ہوئی صورت حال بھی باعث تشویش ہے۔
<link type="page"><caption> مصر میں جمہوریت بحال ہو پائے گی؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151018_egypt_election_restore_way_for_democracy_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> مصر میں انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کا نفاذ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/08/150817_egypt_alsisi_imposes_strict_law_mb" platform="highweb"/></link>
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کی صورت حال یورپ سے یکسر مختلف ہے۔
ملک بھر میں وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعدسنہ 2013 میں سابق فیلڈ مارشل کی قیادت میں فوج نے اس وقت کے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
اس کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والے 40 ہزار سے زائد افراد کو جیلوں میں قید کیا جا چکا ہے۔
برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر جانے سے قبل مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مصر آج بھی سنہ 2011 میں شروع ہونے والے انقلاب کے نتیجے میں حاصل والی جمہوریت کی راہ پر گامزن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مقاصد کے حصول کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2011 کے مظاہروں کے نتیجے میں صدر حسنی مبارک کو اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مصری عوام کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ گذشتہ چار سالوں سے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم ان کی خواہش کا احترام کرنا چاہتے ہیں اور ہم بہتر جمہوری مستقبل کی فراہمی کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے کہ اب تک جو کچھ حاصل کیا گیا ہو وہ بہترین نہ ہو لیکن ہم اپنی جستجو جاری رکھیں گے اور مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔‘
صدر السیسی نے اگست میں منظور ہونے والے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا دفاع بھی کیا۔ ان قوانین کے بارے میں سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بنیادی حقوق کو سلب کیا ہے اور ملک میں نافذ ایمرجنسی کو مزید تقویت بخشی ہے۔
دوسری جانب صدر السیسی کہتے ہیں کہ ’ہم کچھ استحکام چاہتے ہیں، اور یہ ہم زور زبردستی یا دباؤ ڈال کر حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم معاشرے کو ایک نظام کے تحت منظم کرنا چاہتے ہیں۔‘
مغربی ناقدین کے حوالے سے صدر السیسی کا کہنا تھا کہ انھیں مصر کو درپیش خطرات کو سمجھنا ہو گا۔ یہاں گذشتہ دو برسوں میں شدت پسندوں کے ہاتھوں چھ سو حفاظتی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
صدر السیسی نے اصرار کیا کہ ’آپ مجھے وہی ماحول مصر میں مہیا کردیں جو یورپ کو میسر ہے، اور اس کے بعد آپ کو اس قسم کی کسی چیز کی پھر کبھی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘







