پوتن پالیسی کی بازگشت پیرس میں بھی

،تصویر کا ذریعہTwitter

روسی صدر ولادی میر پوتن سوشل میڈیا کی دنیا میں پیرس حملوں کے بعد ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں جہاں پیرس کے شہریوں میں بہت سے پوتن کی پالیسی اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔

صدر پوتن نے گذشتہ روز ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والی جی ٹوئنٹی کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ڈیٹا کی بنیاد پر مثالیں فراہم کی ہیں کہ اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے مختلف گروہوں کو مختلف افراد کی جانب سے مالی مدد کیسے ملتی ہے۔‘

روسی نشریاتی ادارے رشیا ٹوڈے کے مطابق صدر پوتن نے کہا: ’اس کی بنیاد پر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ امداد 40 ممالک سے آتی ہے اور اس میں جی ٹوئنٹی کے رکن ممالک بھی شامل ہیں۔‘

صدر پوتن نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے اپنے ساتھیوں کو تصاویر دکھائی ہیں جو خلا سے اور طیاروں سے لی گئی ہیں جن سے تیل اور پٹرولیئم مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کے بڑے پیمانے پر کا اندازہ ہوتا ہے۔ تیل بھروانے والی گاڑیوں کی قطار درجنوں کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور چار سے پانچ ہزار میٹر کی بلندی سے بھی وہ افق سے دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔‘

اس حوالے سے دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کی پالیسیوں کی بحث بھی جاری ہے جس پر برطانیہ میں روسی سفیر الیگزینڈر یاکووینکو نے صدر پوتن کے حوالے سے لکھا: ’دہشت گردی سے جنگ عالمی ہونی چاہیے۔ امریکہ نے ابتدائی طور پر روسی تجویز مسترد کر دی تھی مگر زندگی ہمیں تمام سبق سکھا دیتی ہے۔‘

برطانوی سیاسی جماعت کے رہنما نائجل فراج نے لکھا: ’اسد اور پوتن بے شک ہمارے بہترین دوست نہ ہوں مگر وہ ہمیں درپیش سب بڑا خطرہ بھی نہیں ہے۔ دولتِ اسلامیہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اسے شناخت کر لے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter

کرد فوجی کارروائیوں پر نظر رکھنے والے کارکن پارتیزان نے لکھا کہ ’پوتن نے واضع طور پر لکھا ہے کہ جی ٹوئنٹی ممالک کے لوگ دولتِ اسلامیہ کے لیے مالی معاونت میں شامل ہیں۔‘

اس سے قبل صدر پوتن کی ڈیووس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب کی ویڈیو سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر بہت زیادہ شیئر کی جا رہی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’کیا ہمیں نہیں پتہ کہ شام میں کون لڑ رہا ہے؟

’ان میں اکثریت کرائے کے قاتلوں کی ہے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ انھیں پیسے ملتے ہیں؟ کرائے کے قاتل اس کے لیے لڑتے ہیں جو انھیں زیادہ پیسے دیتا ہے۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ یہ رقم کتنی ہے۔‘

صدر پوتن نے مزید کہا کہ ’پھر وہ تیل کے کنووں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اور وہ تیل نکالتے ہیں اور ان سے یہ تیل کوئی خریدتا ہے؟ جو یہ تیل خریدتے ہیں اُن کے خلاف پابندیاں کہاں ہیں؟‘

صدر پوتن نے سوال کیا کہ ’کیا آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کو نہیں پتہ کہ کون یہ تیل خرید رہا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ ان کے حلیف ممالک دولتِ اسلامیہ سے تیل خرید رہے ہیں؟‘

صدر پوتن نے سوال کیا کہ کیا امریکہ کا ’ان حلیف ممالک پر اثر رسوخ نہیں ہے؟ یا وہ اسے استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں؟‘ اور پھر پوچھا کہ ’امریکہ ان علاقوں میں کیوں حملے نہیں کرتا جہاں سے دولتِ اسلامیہ تیل نکال رہی ہے؟‘