شام کے سیاسی حل کے لیے وسیع النظری کا مظاہرہ کریں: جان کیری

اسد کے فوجیوں نے، جنھیں شیعہ تنظیم حزب اللہ ت اور ایران کی حمایت حاصل تھی، شام کے جنوب میں واقع اہم شہر حلب سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک علاقے الحیدر کا ’مکمل کنٹرول‘ سنبھال لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسد کے فوجیوں نے، جنھیں شیعہ تنظیم حزب اللہ ت اور ایران کی حمایت حاصل تھی، شام کے جنوب میں واقع اہم شہر حلب سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک علاقے الحیدر کا ’مکمل کنٹرول‘ سنبھال لیا ہے

شامی فوج کو ویانا میں ہونے والے بین الاقوامی مذکرات کےموقع پر جمعرات کو دوسری اہم فتح حاصل ہوئی ہے لیکن امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے متعلق فیصلے کے بغیر اس بارے میں معاہدے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

اس دوران شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے دمشق کی شاہراہ پر واقع اہم علاقے حلب کے قریب اپوزیشن جماعت کے گڑھ الحیدر پر قبضے کا دعوی کیا ہے۔ یہ حکومتی افواج کی جانب سے حلب میں فوج کے فضائی اڈے پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا محاصرہ ختم کرانے کے 48 گھنٹے کے فوراً بعد ہوا۔

سنیچر کو ویانا میں شام کے مسئلے پر دو بارہ مذاکرات شروع ہوں گے، پہلے دور میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنیچر کو ویانا میں شام کے مسئلے پر دو بارہ مذاکرات شروع ہوں گے، پہلے دور میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا

اے ایف پی کے مطابق رسدگاہ کے چیف رمی عبدالرحٰمن کے مطابق یہ علاقہ بہت اہم ہے کیوں کہ یہ اونچائی پر ہے اور اگر وہ اس پر قبضہ کرلیتے ہیں تو انھیں دمشق کی شاہراہ پر حلب شہر تک پہنچنے کا راستہ مل جائے گا۔‘

ادھر شام کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے شروع کی گئی نئی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے سفارتی حکام پہلے ہی ویانا پہنچنا شروع ہوچکے ہیں اور ہفتے کے روز 20 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نگراں ادارے کا کہنا تھا کہ شام اور روس کے جنگی جہازوں کی وجہ سے علاقے میں حملوں کا آغاز ہوا اور حکومتی افواج اور اُن کے اتحادیوں نے ایلس کے مغربی علاقے تک پیش قدمی کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نگراں ادارے کا کہنا تھا کہ شام اور روس کے جنگی جہازوں کی وجہ سے علاقے میں حملوں کا آغاز ہوا اور حکومتی افواج اور اُن کے اتحادیوں نے ایلس کے مغربی علاقے تک پیش قدمی کی ہے

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے کہا ہے کہ ’امریکہ نے روس کی مشاورت کے بغیر عجلت میں شامی ورکنگ گروپس کی ملاقاتیں طے کیں اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے شرکا کو آپس میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔‘

چند روز قبل ماسکو نے مذاکرات کے لیے امن کے ایک منصوبے کو پیش کیا تھا لیکن مغربی حکام نے اس منصوبے کو رد کردیا تھا۔

گذشتہ چند دنوں میں فری سیرئن آرمی کو نقصان اٹھانا پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند دنوں میں فری سیرئن آرمی کو نقصان اٹھانا پڑا ہے

ادھر یورپ کے دورے کے لیے روانہ ہوتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پورے خطے اور پوری بین الاقوامی برادری میں شام کے تعلق سے بداعتمادی کی فضاپیدا ہونے کے متعلق متنبہ کیا ہے۔

مسٹر کیری کے بیان سےاس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ ویانا کے مذاکرات میں معاہدے کے مستحکم ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

انھوں نے امن سے متعلق امریکی ادادے سے ایک خطاب کے دوران کہا ’آج کی دوپہر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ایک جامع معاہدے کی دہلیز پر ہیں۔ نہیں۔‘