شام کے سیاسی حل کے لیے وسیع النظری کا مظاہرہ کریں: جان کیری

،تصویر کا ذریعہAFP
شامی فوج کو ویانا میں ہونے والے بین الاقوامی مذکرات کےموقع پر جمعرات کو دوسری اہم فتح حاصل ہوئی ہے لیکن امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے متعلق فیصلے کے بغیر اس بارے میں معاہدے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
اس دوران شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے دمشق کی شاہراہ پر واقع اہم علاقے حلب کے قریب اپوزیشن جماعت کے گڑھ الحیدر پر قبضے کا دعوی کیا ہے۔ یہ حکومتی افواج کی جانب سے حلب میں فوج کے فضائی اڈے پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا محاصرہ ختم کرانے کے 48 گھنٹے کے فوراً بعد ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اے ایف پی کے مطابق رسدگاہ کے چیف رمی عبدالرحٰمن کے مطابق یہ علاقہ بہت اہم ہے کیوں کہ یہ اونچائی پر ہے اور اگر وہ اس پر قبضہ کرلیتے ہیں تو انھیں دمشق کی شاہراہ پر حلب شہر تک پہنچنے کا راستہ مل جائے گا۔‘
ادھر شام کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے شروع کی گئی نئی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے سفارتی حکام پہلے ہی ویانا پہنچنا شروع ہوچکے ہیں اور ہفتے کے روز 20 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے کہا ہے کہ ’امریکہ نے روس کی مشاورت کے بغیر عجلت میں شامی ورکنگ گروپس کی ملاقاتیں طے کیں اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے شرکا کو آپس میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔‘
چند روز قبل ماسکو نے مذاکرات کے لیے امن کے ایک منصوبے کو پیش کیا تھا لیکن مغربی حکام نے اس منصوبے کو رد کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر یورپ کے دورے کے لیے روانہ ہوتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پورے خطے اور پوری بین الاقوامی برادری میں شام کے تعلق سے بداعتمادی کی فضاپیدا ہونے کے متعلق متنبہ کیا ہے۔
مسٹر کیری کے بیان سےاس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ ویانا کے مذاکرات میں معاہدے کے مستحکم ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے امن سے متعلق امریکی ادادے سے ایک خطاب کے دوران کہا ’آج کی دوپہر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ایک جامع معاہدے کی دہلیز پر ہیں۔ نہیں۔‘







