روس کا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ’پراکسی وار‘ کا انتباہ

امریکی فوجی دولت اسلامیہ کے خلاف شام کے باغیوں کو تعاون فراہم کریں گے

،تصویر کا ذریعہUS ARMY

،تصویر کا کیپشنامریکی فوجی دولت اسلامیہ کے خلاف شام کے باغیوں کو تعاون فراہم کریں گے

روس نے مشرقِ وسطیٰ میں ’پراکسی وار‘ یا درپردہ جنگ کے خطرات پر متنبہ کیا ہے۔

روس کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے شام میں خصوصی فوجی دستے روانہ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی سرگئی لاوروف نے کہا اس صورت حال نے روس اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے۔

<link type="page"><caption> شام میں جنگ بندی کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151031_syria_ceasefire_vienna_talks_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> امریکہ کا شام میں کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151030_syria_us_forces_is_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جو امریکہ نہ کر سکا روس کر سکےگا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151029_russian_syria_intervention_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’50 سے بھی کم امریکی فوجی‘ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار حزبِ اختلاف کی فورسز کو ’تربیت، مشورے اور تعاون دیں گے۔‘

خیال رہے کہ پہلی مرتبہ امریکی فوج کھلے طور پر شام میں کام کرے گی۔

لاوروف نے کہا کہ امریکہ نے ’شام کی قیادت سے بغیر کسی بات چیت کے یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا ہے۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فری سیریئن آرمی کے ساتھ سرکردہ جنگجوؤں کی مدد کا ارادہ رکھتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فری سیریئن آرمی کے ساتھ سرکردہ جنگجوؤں کی مدد کا ارادہ رکھتا ہے

انھوں نے مزید کہا: ’مجھے یقین ہے کہ نہ امریکہ اور نہ ہی روس کسی قسم کی پراکسی جنگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بیان ویانا میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی سٹیفن دی مسٹورا کے ساتھ بات چیت کے بعد دیا۔

بعد میں امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’بنیادی طور پر ہمار کردار اور حکمت عملی مقامی افواج کو باصلاحیت بنانا ہے اور امریکی فوجیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا ہے۔‘

بہر حال انھوں نے پہلی سرگرمی میں کامیابی کی صورت میں علاقے میں خصوصی فوج کی مزید تعیناتی کی بات کو مسترد نہیں کیا۔

روس نے گذشتہ ماہ شام میں جاری جنگ میں شمولیت اختیار کی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنروس نے گذشتہ ماہ شام میں جاری جنگ میں شمولیت اختیار کی ہے

خیال رہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے شام اور عراق کے بہت سے علاقوں پر قابض دولت اسلامیہ کے خلاف ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے فضائی کارروائی جاری ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں شام کے باغیوں کو تربیت دینے کا پروگرام ترک کرکے باغی رہنماؤں کو براہ راست اسلحے اور دوسرے جنگی سازو سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا صدر اوباما شام کے باغی جنگجوؤں کو اضافی تعاون دینے کے حق میں ہیں جنھیں میدان جنگ میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔