شامی فوج نے حلب کے اہم سپلائی راستے پر قبضہ کر لیا

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق شامی فوج نے حلب کے اہم سپلائی راستے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سپاہیوں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو حلب سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ شام کا شہر حلب سنہ 2012 سے دو حصوں میں منقسم ہے۔ شام کی افواج حلب کے مغربی جبکہ باغی مشرقی حصے پر قابض ہیں۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ حلب کے مشرق اور شمال مشرقی علاقے پر قابض ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے شام کے شہر حلب کے ضلع خناصر اور اثریہ کے جنوب مشرقی علاقے میں حکومتی پوزیشنوں پر حملے کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام کے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حلب کے ضلع خناصر اور اثریہ میں لڑائی جاری ہے۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے 23 اکتوبر کو خناصر اور اثریہ کی اہم چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
دولتِ اسلامیہ کے ان چوکیوں پر قبضے کے بعد حلب میں بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔
شام کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ فوجی یونٹوں نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے حلب کے اہم سپلائی راستے کا قبضہ چھڑوا لیا ہے۔
شام میں جاری تنازع کی وجہ سے اب تک 2,50,000 سے زائد افراد ہلاک، دس لاکھ زخمی جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔







