’شامی باغی قیدیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف باغی اپنی قید میں موجود حکومتی فوجیوں اور حکومت کے حامیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعات دمشق کے قریب باغیوں کے زیرِ اثر علاقے میں پیش آئے ہیں۔
<link type="page"><caption> شام کے مختلف علاقوں میں بمباری سے 80 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151030_syria_bombardment_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لوہے کے بڑے پنجروں میں قید افراد کو جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں، ٹرکوں پر سوار کر کے ان سڑکوں پر پھرایا جا رہا ہے جو حکومتی بمباری کا ہدف بنی ہیں۔
ویڈیو میں ان میں سے ایک قیدی بتاتا ہے کہ وہ شامی فوج کا افسر ہے اور وہ حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس علاقے پر بمباری نہ کرے۔
قیدی کے مطابق وہ دمشق کے نواح میں اس علاقے میں موجود ہے جہاں جمعے کو ایک بازار پر سرکاری فوج کے راکٹ حملوں میں کم از کم 70 افراد مارے گئے تھے۔
خیال رہے کہ یہ کارروائی دارالحکومت کے قریبی قصبے دوما اور شمالی شہر حلب میں کی گئی تھی اور یہ دونوں علاقے باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAlbaraka News via AP
دولتِ اسلامیہ کا ماہین پر ’قبضہ‘
ادھر شام سے وسطی علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے صوبہ حمص میں ماہین نامی قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔
برطانیہ سے کام کرنے والی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شدت پسندوں نے سنیچر کو قصبے پر حملہ کیا تھا اور اتوار کو وہ وہاں موجود سرکاری فوج کو پسپا کرنے میں کامیاب رہے۔
اس کے علاوہ ماہین کے نواح میں واقع مسیحی اکثریتی آبادی والے سداد نامی قصبے سے بھی لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
ماہین پر قبضے کے نتیجے میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند دارالحکومت دمشق کو حمص اور دیگر شمالی علاقوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ سے صرف 20 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں آسٹریا کے شہر ویانا میں شام کے تنازعے پر بات چیت کے دوران عالمی رہنماؤں نے مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے لیکن بیشتر عالمی رہنما صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کا شکار ہیں۔
امریکہ نے بھی رواں ہفتے ہی شام میں اپنی فوج کے خصوصی دستوں کے 50 ارکان بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو حکومت مخالف گروہوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مدد کریں گے۔







