لبنان میں حزب اللہ کے گڑھ میں بم دھماکے، 41 ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہEPA
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دو خودکش بم دھماکوں میں کم سے کم 41 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جمعرات کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں ہونے والے یہ بم دھماکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تنظیم حزب اللہ کے گڑھ میں ہوئے ہیں۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے بیان میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے آج یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
سکیورٹی پر مامور ایک اہلکار نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ایک شیعہ مسجد کے باہر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ ایک بیکری کے پاس ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAP
لبنان کے ہمسایہ ملک شام میں جاری لڑائی سے لبنان بھی متاثر ہوا ہے اور ماضی میں بھی بیروت کے جنوبی علاقوں کو سنی انتہا پسندوں نے نشانہ بنایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیعہ تنظیم حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہے، جبکہ لبنان کے سنی مسلمان شام میں حزب مخالف کا ساتھ دے رہے ہیں۔
لبنان میں دس لاکھ شامی افراد پناہ گزین ہیں، جس سے ملک کی معیشت پر شدید دباؤ ہے اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور تیسرا خود کش حملہ آور دھماکہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن اُس کی لاش دھماکے کی جگہ سے ملی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دو فلسطینی اور ایک شامی خود کش حملہ آور نے حملہ کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حزب اللہ نے اس کے رد عمل میں ’دہشت گردوں‘ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف طویل جنگ کے لیے خبردار کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بیروت میں 25 برس قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد یہ سب سے خطرناک دھماکہ بتایا جا رہا ہے۔
لبنان کے وزیراعظم تمّام سلام نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کی عوام کو چاہیے کہ وہ تنازع کھڑا کرنے والوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہو۔







