حزب اللہ کی دو شامی علاقوں میں جنگ بندی کی تصدیق

شامی افواج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے لبنانی سرحد سے منسلک قالعمون پہاڑیوں پر واقع زبدانی کا محاصرہ کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشامی افواج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے لبنانی سرحد سے منسلک قالعمون پہاڑیوں پر واقع زبدانی کا محاصرہ کر رکھا ہے

لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے شام کے دو علاقوں میں حکومت مخالف باغیوں کے خلاف جاری لڑائی چھ مہینے کے لیے بند کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

تنظیم کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنانی سرحد کے قریب واقع شہر زبدانی اور شمال مشرقی شام کے دو شیعہ اکثریتی شہروں پر ہوگا۔

ان کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ ایرانی ثالثی کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں طے پایا ہے۔

حزب اللہ کے جنگجو شام اور لبنان کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ برس شامی حکومت کی فوج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے ایک بڑا حملہ کر کے شام اور لبنان کے سرحدی علاقے کا بڑا حصہ النصرہ اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے سے چھڑوا لیا تھا۔

معاہدے کے تحت باغیوں کو زبدانی سے نکلنے کے لیے راستہ دیا جائے گا۔ اس وقت شامی افواج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے لبنانی سرحد سے منسلک قالعمون پہاڑیوں پر واقع زبدانی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

حزب اللہ کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ ایرانی ثالثی کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں طے پایا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحزب اللہ کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ ایرانی ثالثی کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں طے پایا ہے

اس کے جواب میں باغی صوبہ ادلب میں واقع دو شیعہ اکثریتی دیہات کفرایہ اور فوا سے ہزاروں شہریوں کو انخلا کی اجازت دیں گے۔

خیال رہے کہ زبدانی لبنانی سرحد کے قریب باغیوں کا آخری مضبوط گڑھ ہے لیکن محاصرے کے بعد یہاں باغیوں کی شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔

اس کے بالکل برعکس صورتحال کفرایہ اور فوا میں تھی جہاں باغیوں کے محاصرے کی وجہ سے شیعہ آبادی کے لیے زندگی مشکل سے مشکل تر ہو رہی تھی۔

گذشتہ ماہ 48 گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران ان دونوں علاقوں میں خوراک اور ادویات پہنچانے پر اتفاق ہوا تھا۔

بی بی سی کے عرب امور کے تجزیہ کار سباسچیئن اشر کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے جہاں دو مقامات پر جنگ سے بچا جا سکے گا وہیں فریقین کو یہ احساس بھی ملے گا کہ انھوں نے کچھ حاصل کیا ہے۔