شام کے تین قصبوں میں دو روزہ جنگ بندی کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
اطلاعات کے مطابق شام کے تین قصبوں میں حکومت حامی فورسز اور شامی باغیوں کے درمیان دو روزہ جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس عارضی جنگی بندی کے ذریعے لبنان کی سرحد پر باغیوں کے مضبوط گڑھ زبدانی اور حکومت کے زیر قبضہ فوا اور کیفرایا میں طبی امداد اور خوارک پہنچائی جائے گی۔
باغی گروپ احرار الاشام اور حزب اللہ رضامندی کے بعد جنگ بندی کی گئی ہے۔
دریں اثنا دمشق کے ارد گرد میں حکومتی فضائی حملوں اور باغیوں کی جانب سے راکٹ حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق دوما، کفر بتنا، صقبا اور مشرقی غوتا کے زرعی علاقے ہموریا کے ارد گرد جنگی طیاروں کے حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو ئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے باغیوں کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر درجنوں راکٹ مارنے کے بعد کئے گئے ہیں۔ باغیوں کے ان حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور 55 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
حزب اللہ کے ال منار ٹی وی کے مطابق زبدانی، فوا اور کیفرایا میں 48 گھنٹوں کی جنگی بندی کا آغاز بدھ کو مقامی وقت کے مطابق چھ بجے ہوا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ابھی تک لڑائی کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم مانیٹرنگ گروپ کا مزید کہنا تھا کہ زبدانی سے باغیوں کو نکالنے اور حکومت کے زیر کنٹرول دو قصبوں کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
زبدانی میں کئی ہفتوں سے شامی فوج اور حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری ہیں۔
لبنانی سرحد سے منسلک قالعمون پہاڑیوں پر واقع یہ آخری اہم قصبہ ہے جو باغی فورسز کے زیر کنٹرول ہے۔
گذشتہ ماہ شام میں امریکی سفیر کا کہنا تھاکہ حکومت کی جانب سے کیے گئے بیرل بم حملوں نے ’شدید تباہی مچائی تھی جس میں بہت سے عام شہری ہلاک ہوئے۔‘
منگل کو فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مغربی لاذقیہ میں صہل ال غب کے مقام پر حکومتی فوجوں کو پیچھے ہٹنے اور نئی دفاعی پوزیشن اپنانا پڑی۔







