شام میں کارروائی سے متعلق قرارداد پیش کرنے سےگریز کریں‘

،تصویر کا ذریعہCrown Copyright

برطانوی دارالعوام کی بااثر کمیٹی نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پر زور دیا ہے کہ وہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کےخلاف شام میں کارروائیوں کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کی کوشش نہ کریں۔

سنہ 2013 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف برطانیہ کے ممکنہ فوجی آپریشن کے معاملے پر کیمرون کو 272 کے مقابلے میں 285 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خارجہ امُور کی کمیٹی جن میں کنزرویٹو پارٹی کے اراکان کی اکثریت ہے، کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے کی کوششوں پر زور دینا چاہیے۔کمیٹی نے برطانوی حملوں کے قانونی جواز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس نے سختی سے اِن خبروں کی تردید کی ہے کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں کارروائی سے متعلق معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

برطانوی اخبارات ٹائمز اورگارڈین دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نے اِس مسئلے پر دوسری بار ووٹنگ نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اُنھیں مطلوبہ ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خبریں ’مکمل طور لغو‘ ہیں۔

ارکانِ پارلیمان کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت دولت اسلامیہ کو شکست دینے اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ’مربوط بین الاقوامی حکمت عملی‘ پیش نہیں کرتی، شام کے معاملے پر کوئی ووٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔

خدشہ ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے 20 سے 30 ارکانِ شام پر ووٹنگ کی صورت میں پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔

2013 میں پارلیمنٹ سے شام میں کارروائی کی اجازت نہ ملنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کہ وہ پارلیمنٹ کی رائے کا احترام کریں گے اور انھوں نے امریکی سربراہی میں شام میں فضائی کاررائیوں کا حصہ بننے کے امکانات کو رد کیا تھا۔ اگرچہ اِس کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانوی پائلٹوں نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔

بی بی سی کے سیاسی تجزیہ کار راس ہاکنز کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ شام میں روس کی بمباری اور لیبر پارٹی میں گہری تقسیم کی وجہ سے اس بات امکان نہیں ہے کہ وزیر اعظم شام میں فوجی کارروائی سے متعلق ارکانِ پارلیمان کی فوری رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

روس نے رواں سال ستمبر میں صدر اسد کی ’جائز حکمرانی‘ کو استحکام دینے کے لیے اِن حملوں کا آغاز کیا تھا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعظم کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ وہ مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اِس معاملے پر اُسی وقت ایوان سے رجوع کریں گے جب اس معاملے پر اتفاق رائے ہو جائےگا۔‘

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ’اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مسئلے کے سیاسی حل کو تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔‘