سعودی عرب میں شراب بنانے والے برطانوی کی رہائی

برطانوی سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں گھر میں تیار کردہ شراب بنانے والے قید برطانوی شہری کو ایک ہفتے میں رہا کر دیا جائے گا۔
74 سالہ برطانوی قیدی کارل اینڈری سعودی مذہبی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے تھے جب ان کے گپر میں شراب ملی تھی۔
وہ ایک سال سے زائد عرصہ قید میں گزار چکے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو خدشہ تھا کہ کارل کو سزا میں کوڑے مارے جائیں گے لیکن سعودی حکام نے اس کی تردید کی تھی۔
مسٹر ہیمنڈ نے کارل اینڈری کی رہائی کی خبر کے بعد دینے کے بعد ایک ٹویٹ کے ذریعے ’بےحد خوشی‘ کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
انھوں نے ٹویٹ میں لکھا: ’میں بے حد خوشی کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ برطانوی شہری کارل اینڈری کو سعودی حراست سے ایک ہفتے کے اندر رہا کر کے اپنے اہل خانہ سے ملایا جائے گا۔‘
اپنی گرفتاری سے پہلے مسٹر اینڈری کئی برسوں سے سعودی عرب میں رہ رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے خاندان کو ڈر تھا کہ اگر اُنھیں 360 کوڑے لگائے گئے تو وہ جانبر نہیں ہو سکیں گے۔
ان کے بیٹے سائمن اینڈری نے کہا کہ وہ ’بہت خوش‘ ہیں کہ ان کے والد رہا کیے جا رہے ہیں۔
ان کی بیٹی کرسٹن پیراتھ نے کہا کہ ان کے والد کی رہائی کی خبر سے انھیں ’بہت سکون‘ ملا ہے۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جنھوں نے سعودی عرب کے حکام کے ساتھ یہ معاملہ پہلے بھی اٹھایا تھا کا کہنا ہے ’ہم نے ہمیشہ دنیا بھر میں برطانوی شہریوں کے انسانی حقوق پر کارروائی کی ہے اور اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ہم معاملے کو سفارتک اری اور احتیاط سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہKirsten Piroth
مسٹر ہیمنڈ ایک ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب میں شراب کی ملکیت غیر قانونی ہے۔ ملک پر کئی برسوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
برطانیہ نے حالیہ دنوں میں ملک پر سعودی اور غیر سودی شہریوں کے ساتھ برتاؤ پر دباؤ ڈالا ہے جنھوں نے سعودی عرب کے سخت اسلامی قوانین توڑے ہیں۔







