’اوباما میرے بیٹے کو سعودیہ میں آزادی دلا سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
سعودی عرب میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے پر موت کی سزا پانے والے سعودی نوجوان کی والدہ نے امریکی صدر براک اوباما سے مدد کی درخواست کی ہے۔
علی محمد باقر النمر کو سعودی عرب میں شیعہ احتجاج میں شامل ہونے پر 17 برس کی عمر میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ان کی والدہ نصرہ الاحمد نے اپنے بیٹے کے سرقلم اور مصلوب کرنے کی سزا کو ’انتہائی دقیانوسی اقدام‘ کہا ہے۔
صدر اوباما کے ایک سینیئر انتظامی افسر کا کہنا ہے کہ امریکہ اس کیس کے بارے میں ’بہت فکر مند‘ ہے۔
نصرہ نے برطانوی اخبار گارڈیئن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اوباما اس دنیا کے سر پرست ہیں، اور وہ مداخلت کر کے میرے بیٹے کو آزادی دلا سکتے ہیں۔ ایسا کر کے وہ ہمیں ایک بہت بڑے سانحے سے بچالیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
النمر کی سزا کے خلاف درخواست کو سعودی حکومت نے مسترد کر دیا ہے جبکہ سعودی عرب میں موجود برطانوی سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے اندورنی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو نے النمر پر رحم کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
النمر کو 2011 میں احتجاج میں حصہ لینے پر النمر کے اگلے برس 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق النمر کے جرائم کی ایک طویل فہرست ہے جن میں بغاوت، شاہ کی نافرمانی، فسادات کرانا، سکیورٹی گشت پر معمور اہلکاروں پر پیٹرول بم پھینکنا، اور ایک دوا خانے کو لوٹنا شامل ہیں۔
النمر کے خاندان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
اوباما انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ’ہم سعودی عرب کی حکومت سے درخواست کریں گے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کا خیال رکھے، اور اس اور باقی تمام مقدمات میں شفاف اور غیر جانبدار عدالتی عمل کو یقینی بنائے۔
’ ہم نے یہ کیس حال ہی میں سعودی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے اور اپنے 2014 کے حقوق انسانی سے متعلق رپورٹ کا حصہ بھی بنایا ہے۔‘

گرفتاری کے وقت النمر کی عمر صرف 17 سال تھی، اس لیے ان کی سزا تکنیکی اعتبار سے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونیشن کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میثاق پر دستخط کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں تعینات سعودی سفیر عبداللہ المعالیمی نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں کہا کہ النمر کے مقدمے میں’قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔‘
ساتھ ہی انھوں نے دنیا سے کہا کہ وہ ان کے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اہلِ تشیع کی اکثریت ہے اور وہ طویل عرصے سے ملک کے حکمران السعود بادشاہت کے ہاتھوں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
سعودی عرب کے ہمسایہ ملک بحرین میں جمہوریت کے حق میں تحریک کے آغاز کے بعد اس علاقے میں فروری 2011 میں بادشاہت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔
سعودی حکام ملک میں شیعہ افراد کے خلاف امتیازی سلوک سے انکار کرتے ہیں اور ایران پر ملک کے اندر بےچینی پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں۔







