’360 کوڑوں کی سزا کے باعث وہ زندہ نہیں رہ پائیں گے‘

برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق ’وہ جلد از جلد اُس کی رہائی کی کوشش کر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہKirsten Piroth

،تصویر کا کیپشنبرطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق ’وہ جلد از جلد اُس کی رہائی کی کوشش کر رہے ہیں‘

سعودی عرب میں گھر میں بنائی جانے والی شراب کے ساتھ پکڑے جانے والے ایک برطانوی شہری کو 360 کوڑوں کی سزا سُنائی جا سکتی ہے۔ اس کے اہلِ خانہ کے مطابق یہ سزا اُن کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

74 سالہ برطانوی قیدی کارل اینڈری سعودی مذہبی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے لے کر اب تک ایک سال سے زائد عرصہ پہلے ہی قید میں گزارچکے ہیں ۔

ان کی بیٹی کرسٹن پیروتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد تین طرح کے کینسر میں مبتلا ہیں اور وہ کوڑوں کی اس سزا سے ’جانبر نہیں ہو سکیں گے۔‘

برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق ’وہ جلد از جلد اُن کی رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پیروتھ کا کہنا ہے کہ اگست 2014 میں ان کے والد اپنی کار میں گھر میں بنائی جانے والی شراب لے جارہے تھے کہ پولیس نے اُنھیں گرفتار کر لیا تھا۔ شراب سعودی عرب میں غیر قانونی ہے۔

اینڈری کی قید کی ایک سالہ مدت اب مکمل ہو چکی ہے اور اُن کی بیٹی پیروتھ کے مطابق اُس کے خاندان کو اب اس بات کا ’یقین ہو گیا ہے‘ کہ اُن کے والد کی عمر اور صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُنھیں کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ اب ’اس بات پر ایک سوالیہ نشان لگا نظر آنے لگا ہے کہ آیا ایسا ہوگا یا نہیں۔‘

اینڈری کی بیٹی کرسٹن پیروتھ نے بتایا کہ ان کے والد تین طرح کے کینسر میں مبتلا ہیں

،تصویر کا ذریعہKirsten Piroth

،تصویر کا کیپشناینڈری کی بیٹی کرسٹن پیروتھ نے بتایا کہ ان کے والد تین طرح کے کینسر میں مبتلا ہیں

پیروتھ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ برطانوی حکام کی جانب سے فراہم کی گئی مدد سے مطمئن ہیں، تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ اتنا زیادہ وقت کیوں لگ رہا ہے جبکہ میرے خیال میں ایک ذمہ دار شخص کو کی جانے والی صرف ایک فون کال میرے والد کو رہائی دلا سکتی ہے۔‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق: ’ہمارے سفارت خانے کا عملہ مسلسل اینڈری کے کیس کی پیروی کر رہا ہے جس میں اُن کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے باقاعدہ دورے اور اُن کے اہلِ خانہ اور وکیل سے لگاتار رابطے میں رہنا شامل ہے۔‘