سعودی عرب: دس پاکستانیوں سمیت 88 افراد کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہGetty
بین الاقوامی برادری کی تنقید کے باجود سعودی عرب میں رواں سال اب تک 88 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جن میں سے دس کا تعلق پاکستان سے ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب میں منگل کو دی جانے والی سزا کے بعد ملک میں اب تک مجموعی طور پر 2014 افراد کے سر قلم کیے گئے ہیں۔
سعودی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ منگل کو جن دو افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا ہے، وہ سعودی شہری تھے۔ ایک پر نشہ آور ادویات کی سمگلنگ اور دوسرے پر قتل کا جرم عائد کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں سعودی عرب میں 87 افراد کو سزا دی گئی جبکہ سنہ 2015 میں اب تک 88 افراد کو سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے سر قلم کیا گیا ہے۔
رواں سال سعودی عرب میں جن افراد کے سر قلم کیے گئے ہیں، اُن میں آٹھ افراد کا تعلق یمن سے ہے جبکہ پاکستان، شام، اردن کے دس ،دس افراد کو پھانسی دی گئی۔
سنہ 2014 میں سعودی عرب نے برما، فلپائن، بھارت اورسوڈان کے ایک ایک شہری کی سزائے موت پر عمل درآمد ہوا۔
رواں سال پھانسی دیے جانے والوں میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمہ ستتی زینب بھی شامل ہے۔ انڈونیشا کا کہنا ہے کہ قتل کی سزا دی جانے والی خاتون کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی شہری کی ہلاکت پر جکارتہ نے سعودی عرب کے سفیر کو طلب کیا تھا۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں سعودی عرب دنیا کے اُن پانچ ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ سزائے موت پر عمل درآمد ہوا۔
ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد میں ’بھیانک اضافہ‘ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کےسرگرم افراد کا کہنا ہے کہ پھانسیوں میں اضافے کی وجہ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
انسانی حقوق کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل دارآمد بادشاہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے نئے بادشاہ شاہ سلمان اقتدار سنبھالنے کے بعد تحکمانہ خارجہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
برلن سے کام کرنے والی سعودی عرب میں انسانی حقوق کی ایک کارکن کا کہنا ہے کہ قتل کی سزا اُن افراد کو سنائی جاتی ہے جو کمزور ہوں اور جن کا حکومت سے تعلق نہ ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اقتصادی وجوہات کی وجہ سے بھی ممنوعہ ادویات کی سمگلنگ بڑھ رہی ہے۔ ’ غیر قانونی کاروبار میں لوگ اس لیے شامل ہو رہے ہیں کیونکہ وہ غریب ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسے مقدمات کی سماعت اور کارروائی بین الاقوامی معیار کی نہیں ہوتی۔
سعودی عرب میں رائج اسلامی شرعی قوانین کے تحت ملک میں انسانی سمگلنگ، ریپ، قتل اور مسلح ڈکیتی کے مرتکب افراد کو موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔
سعودی عرب میں قتل کی سزا پر سرِعام عمل درآمد ہوتا ہے اور عموماً تلوار کے ذریعے سر قلم کیا جاتا ہے۔
ملک کے سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کے اقتدار کے آخری ایام میں پھانسیوں کی تعداد کم ہوئی تھی لیکن شاہ سلمان کے بادشاہ بننے کے بعد سعودی عرب میں سزائے موت پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے۔
ایمنٹیسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جن مقدمات میں قتل کی سزا ہو سکتی ہے اُن کی کارروائی خفیہ رکھی جاتی ہے اور ملزمان کو اس بات کی اجازت کم ہی ہوتی ہے کہ وہ وکیل مقرر کر کے مقدمے کی پیروی کریں۔







