سعودی عرب میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد کے سر قلم

،تصویر کا ذریعہ
سعودی عرب میں منگل کو دو سعودی شہریوں اور ایک پاکستانی شہری کا سر قلم کر کے موت کی سزا دے دی گئی اور اس طرح اس سال کے پہلے تین مہینوں میں سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 48 تک پہنچ گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سلطنت سعودی عرب میں 87 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی جبکہ اس سال کے پہلے تین مہینوں میں 48 مجرموں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔
موت کی سزا پانے والوں کی تعداد میں اس اضافے کی بظاہر کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو اس سال سعودی عرب میں موت کی سزا دیے جانے والوں لوگوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو جائے گی۔
لندن میں قائم انسانی حقوق کے عالمی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب ہر سال ہی دنیا کے ان پانچ ملکوں میں رہتا ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری ممتاز حسین دین احمد کا سر منگل کے روز مدینہ شہر میں قلم کر دیاگیا۔ انھیں سعودی عرب میں ہیروئین سمگل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
دو سعودی شہریوں کو قتل کے الزامات میں موت کی سزا دی گئی۔ وزارتِ داخلہ کے اعلان میں کہا گیا کہ سعودی شہریوں کی سزائے موت کو اس وقت تک موخر کیا گیا تھا جب تک مقتولیں کے بچے بالغ نہیں ہو گئے اور انھوں نے پھانسی دیے جانے کی منظوری نہیں دی۔ قتل، زنا بلجبر، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی سمگلنگ کے جرائم کے علاوہ سعودی عرب کے شرعی قوانین میں مرتدوں کے لیے بھی موت کی سزا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے سلطنت کا نظامِ عدل تمام شہریوں کے لیے انصاف کو یقینی بناتا ہے۔
لیکن اقوام متحدہ کے رپورٹئر کرسٹوف ہیز نے گزشتہ سال ستمبر میں کہا تھا کہ سعودی عرب میں مقدمات کی سماعت میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے اور اکثر ملزماں کی پیروی کرنے کے لیے وکیل بھی دستیاب نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا تھا کہ اکثر ملزماں پر تشدد کر کے ان سے اعتراف جرم کرایا جاتا ہے۔ خلیج کی ریاستوں میں اوسطً ہر سال 80 افراد کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران میں گزشتہ جنوری سے اب تک ایک ہزار افراد کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔







