برطانیہ اور چین میں جوہری پلانٹ پر سمجھوتہ طے پا گیا

ملکہ برطانیہ نے منگل کو چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کا اپنے محل میں شاندار استمبال کیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنملکہ برطانیہ نے منگل کو چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کا اپنے محل میں شاندار استمبال کیا

برطانیہ اور چین میں ہنکلے پوائنٹ پر بننے والے جوہری توانائی کے پلانٹ میں چینی سرمایہ کاری کے ایک معاہدے پر سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔

توقع ہے کہ 18 ارب ڈالر مالیت کے جوہری پلانٹ سے توانائی کا حصول 2025 تک ممکن ہو سکے گا اور سمجھوتے کے تحت اس کی تعمیر لاگت کا 30 فیصد قیمت چین ادا کرے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ برطانیہ کے دوران طے پایا ہے جبکہ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 30 ارب پاؤنڈ مالیت کے معاہدے ہونے کا امکان ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی شراکت داری سے سفوک میں سزویل اور ایسیکس میں براڈ ویل کے دو دیگر جوہری منصوبے پر بھی کام ہو گا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے اس سے تقریباً 25 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور 60 لاکھ مکانوں تک وافر مقدار میں بجلی پہنچائی جا سکے گی۔

پلانٹ کی تعمیر فرانس کی توانائی کی کمپنی ای ڈی ایف چین کی سرکاری جوہری توانائی کے کمپنی سی جی این کے ساتھ مل کر کرے گی ۔

ہنکلن پوائنٹ کے جوہری پلانٹ کی تعمیر فرانس کی اینرجی کمپنی ای ڈی ایف چین کی سرکاری جوہری توانائی کے کمپنی سی جی این کے ساتھ مل کر کرے گی

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنہنکلن پوائنٹ کے جوہری پلانٹ کی تعمیر فرانس کی اینرجی کمپنی ای ڈی ایف چین کی سرکاری جوہری توانائی کے کمپنی سی جی این کے ساتھ مل کر کرے گی

تجارت سے متعلق بی بی سی کے مدیر کمال احمد کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں یہ ایک طرح سے اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔

چینی صدر کے دور کے موقع پر ہی برطانیہ نے چینی سیاحوں کے لیے خصوصی طور پر ملٹی انٹری کا دو سالہ مدت کا ویزا اسی قیمت پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا کیا گیا ہے جس قیمت میں چھ ماہ کا سیاحتی ویزا دیا جاتا ہے۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ویزے میں اس نرمی کا مقصد برطانیہ میں چینی سیاحوں کی آمد کو فروغ دینا ہے جو گزشتہ پانچ برسوں میں تقریبا دوگنی ہوچکی ہے۔