چینی صدر کے دورۂ برطانیہ میں اہم امور پر بات چیت متوقع

ملکہ برطانیہ نے چین کے صدر کے اعزاز میں منگل کی رات کو اعشائیہ کا اہتمام کیا ہے جس میں شاہی خاندان کے تقریباً سبھی اہم اراکین شرکت کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملکہ برطانیہ نے چین کے صدر کے اعزاز میں منگل کی رات کو اعشائیہ کا اہتمام کیا ہے جس میں شاہی خاندان کے تقریباً سبھی اہم اراکین شرکت کریں گے

چین کے صدر شی جن پنگ کے برطانیہ کے چار روزہ دورے کے باقاعدہ آغاز کے موقعے پر شاہی خاندان کے ارکان اور سیاسی رہنماؤں نے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔

چینی صدر اپنی اہلیہ پینگ لی یوان کے ساتھ پیر کو لندن پہنچے تھے۔

منگل کی صبح ملکۂ برطانیہ سمیت شاہی خاندان کے افراد نے مینڈرن اوریئنٹل ہوٹل میں ان کا باقاعدہ خیرمقدم کیا۔

توقع ہے کہ چینی صدر کے دورے کے موقعے پر دونوں ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے 30 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کے معاہدے طے پائیں گے۔

برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ فلپ ہمنڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ کھلی آنکھوں سے چین سے قریبی تعلقات قائم کرنے جا رہا ہے۔

انھوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ چین کے بارے میں برطانیہ کا رویہ ’ہانپتے ہوئے پِلّے‘ کا سا ہے۔

صدر شی جن پنگ ہارز گارڈز پریڈ میں وہ گارڈ آف آنر کی تقریبات میں شرکت کریں گے جہاں ملکۂ برطانیہ اور ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا ان کا استقبال کریں گے۔

چین کے صدر برطانوی پارلیمان سے خطاب بھی کریں گے اور اس کے بعد وہ شہزادہ چارلز سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جائیں گے۔

شام کو وہ ملکہ برطانیہ کے محل بکنگھم پیلس میں ڈیوک آف کیمبرج سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن سے ملیں گے۔

ملکہ برطانیہ نے چین کے صدر کے اعزاز میں منگل کی رات کو عشائیے کا اہتمام کیا ہے جس میں شاہی خاندان کے تقریباً سبھی اہم اراکین شرکت کریں گے۔

2005 کے بعد سے کسی بھی چینی رہنما کا یہ پہلا دورہ برطانیہ ہے اور فریقین اس دورہ کو سنہری دور کے آغاز سے تعبیر کر کے اسے بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔

ابھی تک بات چیت کا کوئی واضح ایجنڈا سامنے نہیں لیکن امکان ہے کہ برطانوی وزیراعظم اور چینی صدر کئی اہم اقتصادی اور سیاسی معاملات پر بات چيت کریں گے۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی ترجمان کا کہنا تھا کہ بات چيت کے دوران سائبر حملوں اور سائبر کرائم جیسے مسائل پر بھی بات چیت کی جائےگی۔

دو طرفہ تجارت کو فروغ دینا دونوں ملکوں کی ترجیحات میں شامل ہے اور امکان ہے کہ برطانیہ اپنے جوہری توانائي کے پلانٹوں میں چینی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے گا۔