چین کا مغربی سرحدی علاقوں میں استحکام میں پاکستانی کردار کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین کی مغربی سرحد کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان نے جو کچھ کیا ہے، وہ چین کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
منگل کو پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں چینی صدر نے خطے میں استحکام اور شدت پسندی کے خلاف پاکستانی کوششوں کی بار بار تعریف کی۔
’گذشتہ چند سالوں میں پاکستان نے چین کے مغربی سرحدی علاقوں پر موجود تمام مشکلات پر قابو پا لیا ہے اور وہاں سکیورٹی اور استحکام قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو ہم کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔‘
چینی صدر نے شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس لڑائی میں جتنی قربانی دی ہے، اسے چین میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
’پاکستان نے شدت پسندی سے لڑتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں انھوں نے خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
چینی صدر نے پاکستان میں سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے میں پاکستان کو بھرپور مدد کا یقین بھی دلایا۔
’چین پاکستان کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے اس کی مدد کرے گا۔ ہم پاکستان میں بڑھتے ہوئے غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘
چین کے صدر شی جن پنگ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پاکستان کی جانب سے افعانستان میں مفاہمت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’پاکستان اور چین کی دوستی اب دو طرفہ امور سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب ہمیں علاقائی اور عالمی معاملات پر تعاون بڑھانا چاہیے۔ چین افغانستان میں پاکستان کے مثبت کردار کی حمایت کرتا ہے اور وہاں مفاہمت اور پر امن انتقالِ اقتدار کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔‘
خیال رہے کہ چین کے صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران اقتصادی راہداری سمیت سرمایہ کاری کے 51 معاہدوں پر دستخط کیا ہے۔
شی جن پنگ دو روزہ دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ یہ نو برس میں کسی چینی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔
انھوں نے کہا باہمی اعتماد پر مبنی یہ دوستی ’ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے‘ اور آئندہ نسلوں کے لیے اثاثہ ہے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ ’پاکستان اچھا دوست، اچھا ہمسایہ اور اچھا بھائی ہے‘ اور وہ اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چینی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور چین ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور چین پاکستان سے باہمی اقتصادی تعاون کو مکمل تحفظ دے گا۔
اقتصادی راہداری کے بارے میں بات کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ یہ باہمی ترقی کا منصوبہ ہے اور چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے۔
چینی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں درپیش ہر رکاوٹ دونوں ملک مل کر دور کریں گے۔
انھوں نے چین کی ون چائنا پالیسی کے لیے پاکستانی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
پاکستانی ارکانِ پارلیمان سے خطاب سے قبل شی جن پنگ نے پارلیمانی رہنماؤں کے وفد سے بھی ملاقات کی جس کی سربراہی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی دوستی نسلوں پرانی ہے اور اب سٹریٹیجک شراکت درای میں تبدیل ہو رہی ہے۔
شی جن پنگ نے پیر کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے<link type="page"><caption> 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150420_pak_china_agreements_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
چینی صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم نے ملاقات کے بعد پیر کی شام مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر شی جن پنگ نے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو چین کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ترجیحی مقام پر رکھتے ہیں۔‘
چین کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے میں مفت معاشی مدد فراہم کرے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ کے پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ، کراچی اور لاہور موٹر وے سمیت توانائی کے شعبے کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں میں 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں۔
چینی صدر نے پارلیمنٹ ہاؤس سے خطاب کے بعد ایوان صدر میں صدر پاکستان ممنون حسین سے وفود کی سطح پر اور تنہائی میں ملاقات کی۔
اس ملاقات کے بعد ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر پاکستان اور مہمان صدر کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاوہ عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
صدر پاکستان نے پاکستان کی جانب حالیہ بھارتی رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہمیشہ مخلصانہ طور پر تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کیں لیکن بھارت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی کی گئی۔
صدر مملکت نے بھارت کی جانب سے حال ہی میں اسلحے کی خریداری پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کے اس عمل سے خطے میں اسٹٹریٹیجک عدم استحکام پیدا ہو گا۔
صدر مملکت نے چینی کہا کہ پاک فوج کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کسی تفریق اور وابستگی سے بالا تر ہو کر کارروائی کی جارہی ہے۔
صدر پاکستان نے کہا: ’ایسٹ ترکستان موومنٹ سے نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے استحکام کو بھی خطرہ ہے۔ پاکستان دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی جیسی برائیوں کے خلاف چین کی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد میں سخت سکیورٹی
چینی صدر کے پارلیمان سے خطاب کے موقع پر بھی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔
صدر نے پارلیمان سے صبح ساڑھے نو بجے خطاب کرنا تھا لیکن ارکان ِ پارلیمان میں ایک گھنٹہ قبل ہی آنے کی ہدایت کی گئی۔
قانون نافذ کرنے والے اداوں کے اہلکاروں نے پارلیمان کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے تھے۔
خیال رہے کہ شی جن پنگ اور اُن کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے 111 بریگیڈ کو سونپی گئی تھی جبکہ رینجرز اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس بھی اس ضمن میں فوج کی معاونت کرے گی۔منگل کی سہ پہر اپنا دو روزہ دورہ پاکستان مکمل کر کے وطن واپس لوٹ گئے۔







