چینی صدر کی پاکستان آمد، تیاریاں عروج پر

ایک ٹیلی وژن چینل کا قیام بھی اسی راہداری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنایک ٹیلی وژن چینل کا قیام بھی اسی راہداری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

چینی صدر شی جن پنگ کےدورہ پاکستان کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی پاکستان کی منصوبہ بندی کی وزارت میں ایک ہلچل سی مچی دکھائی دیتی ہے۔

کہیں چینی وفود سے ملاقات ہو رہی ہیں، کہیں سیمینار اور کانفرنسیں میں پاکستان اور چین کے درمیان متوقع معاہدوں کی نوک پلک درست کی جا رہی ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ وزارت منصوبہ بندی کو پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تیاری اور اس پر عمل یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

چین کے صدر دو روزہ دورے پر پیر کے روز پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے دوران 45 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر معاہدے کیے جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی چینی صدر کے دورے کا اعلان ہوا، بیجنگ میں چینی سفیر سمیت اہم سرکاری افسران وزارت منصوبہ بندی میں اکٹھے ہوئے اور اس منصوبے کے پیچ و خم پر بات چیت شروع ہوئی۔

اسی طرح کے ایک اجلاس میں موجود چین میں پاکستانی سفیر خالد مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ پاک چین اقتصادی منصوبہ اب ڈرائنگ بورڈ سے نکل کر عمل کی سٹیج تک پہنچ چکا ہے۔

’یہ منصوبہ ایک سال کی مدت کے دوران اب اس سٹیج تک پہنچ چکا ہے کہ اب اس پر عملی کام شروع ہونے کی دیر ہے۔ اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ چینی صدر کے دورے کے دوران یہ کام بھی شروع ہو جائے گا۔‘

45 ارب ڈالر کے اس منصوبے میں خنجراب کی سرحد سے لے کر گوادر تک سڑکوں اور ریل وغیرہ کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

منصوبے کی تفصیل کے مطابق اس منصوبے میں 10400 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، 832 کلومیٹر شاہراہوں کی تعمیر، 1736 کلومیٹر ریلوے لائن کی تعمیر اور گوادر کی بندرگاہ پر متعدد ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے شامل ہیں۔

ایک ٹیلی وژن چینل کا قیام بھی اسی راہداری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کے مطابق اس راہداری کی تعمیر میں سب سے اہم اور بنیادی چیز توانائی کے منصوبے ہیں۔

چین کے صدر دو روزہ دورے پر پیر کے روز پاکستان پہنچ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچین کے صدر دو روزہ دورے پر پیر کے روز پاکستان پہنچ رہے ہیں

’اس منصوبے کے تحت سب سے پہلے کوئلے کے ذریعے چھ ہزار میگا واٹ بجلی تھر کے علاقے میں پیدا کی جائے گی۔ یہ بجلی نا صرف تھر سے غربت کے اندھیرے دور کرنے کا باعث بنے گی بلکہ مستقبل میں ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد دے گی۔‘

احسن اقبال نے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے چین کے ساتھ طے پانے والے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کو مسترد کرتے کہا کہ چین ان منصوبوں کی تعمیر کے لیے آسان ترین شرائط پر قرضے دے رہا ہے۔

’چین ہمیں مدد نہیں دے رہا بلکہ وہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری ہی بنیادی چیز ہوتی ہے۔‘

پاکستان کئی سالوں سے امن کی خراب صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری سے عملاً محروم ہے۔ ایسے میں سرکاری حکام چین سے آنے والی اس اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایندھن قرار دے رہے ہیں۔